روس کا ایک اور جنگ بندی کا اعلان

روس نے ایک اور لڑائی بندی اور چند انسانی راہداریوں کا اعلان کیا تاکہ شہری‘ یوکرین چھوڑکر جاسکیں لیکن زیادہ تر راستے روس اور اس کے حلیف بیلاروس کی طرف جاتے ہیں جس پر یوکرین اور دیگر ممالک نے تنقید کی ہے۔

ماسکو: روس نے ایک اور لڑائی بندی اور چند انسانی راہداریوں کا اعلان کیا تاکہ شہری‘ یوکرین چھوڑکر جاسکیں لیکن زیادہ تر راستے روس اور اس کے حلیف بیلاروس کی طرف جاتے ہیں جس پر یوکرین اور دیگر ممالک نے تنقید کی ہے۔

یو این آئی کے بموجب جنگ سے متاثرہ یوکرین کے مختلف شہروں میں ہورہی گولہ باری کے درمیان پھنسے ہندستانی طلبا سمیت سینکڑوں لوگوں کے محفوظ انخلا کے پیش نظر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کوریڈور بنانے کے لئے روس جنگ بندی کے لئے تیا ر ہوگیا ہے۔

میڈیا کی رپورٹ میں یہ اطلاع دی گئی۔بی بی سی نے کہاکہ یوکرین کی راجدھانی شہر کے ساتھ ساتھ خارکیف، ماریو پال اور سومی میں روسی افواج کا سب سے زیادہ حملہ ہوا ہے اور انہی شہروں سے لوگوں کو محفوظ طریقہ سے باہر نکالنے کے لئے محفوظ کوریڈور بنائے جائیں گے۔

روس کی وزارت دفاع کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے ہندستانی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے جنگ بندی کی جائے گی حالانکہ یوکرینی انتظامیہ کی طرف سے اس کی تصدیق ہونی باقی ہے۔

پیر کو وزیراعظم نریندر مودی کی روس اور یوکرین کی قیادت ہونے والی بات چیت سے پہلے جاری جنگ کے درمیان یہ تبدیلی سامنے آئی ہے۔

اس سے پہلے فرانس کے صدر امینوئل میکخواں کی درخواست کے بعد روس نے پیر کو یوکرین میں پھنسے غیرملکیوں کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کوریڈور کھولنے کے لئے ہندستانی وقت کے مطابق دوپر ساڑھے بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

جنگ بندی کے دور روس ڈرون کی مدد سے شہریوں کو محفوظ باہر نکالنے میں بھی مدد کرے گا۔ روس اب یوکرین سے کسی یقینی کارروائی کا انتظار کررہا ہے۔

ہم انسانی کوریڈور بنائے جانے کے لئے اور غیرملکی افراد کے ساتھ شہریوں کو محفوظ نکالنے کا انتظام کرنے کی یوکرین سے اپیل کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button