روس یوکرین کی جنگ اور ہم ہندوستانی

جو کچھ روس اور یوکرین کے بیچ میں ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

پروفیسر اختر الواسع

جو کچھ روس اور یوکرین کے بیچ میں ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ایک انسان سوز کیفیت سے یوکرین کے لوگ دو چار ہیں۔ روس نے جو جنگ یوکرین پر تھوپی ہے وہ امنِ عالم درہم برہم ہی نہیں کر رہی ہے بلکہ اعصاب شکن بھی ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایک دفعہ پھر ایک جنگ یورپ کی جغرافیائی سیاسی حدوں میں لڑی جار رہی ہے۔ اب تک سرد جنگ کے باوجود بھی امریکہ، یورپی ممالک اور ان کے حلیف اس پر متفق تھے کہ اب اگر کوئی جنگ ہونی ہے تو وہ ایشیاء ہی میں ہو۔ اس لئے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی فلسطینی تنازعہ ہو یا ایشیاء کے مشرق بعید میں دونوں کوریائی ملکوں کے درمیان تنازعہ اور تناؤ یا پھر برصغیر میں ہند پاک تنازعہ یا عراق اور شام میں جو کچھ جنگوں اور خانہ بربادی کی صورت میں ہمیں دیکھنے کو ملا وہ اسی سوچ اور پالیسی کا نتیجہ تھا لیکن امریکہ اور ناٹو ممالک کے عزائم میں روس اور چین کو ایک دوسرے کے قریب تر کر دیا اور روسی صدر پوتِن نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرین کے ناٹو میں شامل کئے جانے کی ہر کوشش کی مخالفت کی۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ یوکرین کو ناٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا لیکن مغربی ملکوں کی طرف سے یہ سب کچھ صرف زبانی جمع خرچ تھا۔ جب اس کے برعکس انہوں نے کوششیں کیں اور روس نے اس پر سوال قائم کیا اور اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ آپ یعنی امریکہ سمیت مغربی ملکوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یوکرین کو ناٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا تو انہوں نے اس کا جواب جس جھَٹائی سے دیا وہ یہ تھا کہ ہم نے آپ کو ایسی تو کوئی بات لکھ کر تو نہیں دی تھی لیکن امریکہ اور اس کے مغربی حلیف یہ بھول گئے کہ پوتِن نہ تو صدام حسین ہیں اور نہ معمر القضافی۔ اُس نے اِس کا جواب اس جنگی مہم سے دیا جس کے تباہ کن نتائج ہم دیکھ رہے ہیں۔
جنگ خود ایک مسئلہ ہے‘ وہ مسئلوں کا حل کیا دے گی۔ اسلئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔ اردو کے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی نے جب اس ازلی اور ابدی حقیقت کو شعر کے قالب میں ڈھالا تھا تو اس کے سچ ہونے سے کوئی انکار نہیں کر سکا۔ اس لئے کہ جنگ جو جیتتا ہے اور جو ہارتا ہے دونوں ہی بعد کفِ افسوس ملتے ہیں۔ اس میں ماؤں کی کوکھ اجڑتی ہے۔ سہاگنوں کا سہاگ لٹتا ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں۔ زمین بمباری کے نتیجے میں بانجھ ہو جاتی ہے۔ ترقی جیتنے والے کی ہو یا ہارنے والے کی، دونوں کی برباد ہوتی ہے۔ یہی سب کچھ ہم یوکرین میں دیکھ رہے ہیں۔ جہاں موت رقصاں ہے اور آبادیاں برباد ہو رہی ہیں۔
یوکرین اپنے رقبے کے اعتبار سے یورپ کا سب سے بڑا ملک تو ہے ہی، یہ بھی حقیقت ہے کہ معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل سے بھی اللہ نے اسے خوب نوازا ہے اور روس جس کا وہ تقریباً 7دہائیوں سے زیادہ حصہ رہا ہے، وہ ان حقائق سے ہم سب سے زیادہ واقف ہے اور کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتا کہ ان معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل سے امریکہ اور یورپ والے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہاں ایک بات جو اور بہت تکلیف دہ سامنے آئی ہے وہ یہ کہ جس طرح کل امریکہ اور اس کے حلیفوں نے مجلس اقوام متحدہ کی اَن دیکھی کی تھی اور عراق، لیبیا وغیرہ میں اپنی من مانی کی تھی اسی راستے پر اب روس اور اس کے صدر پوتن چل رہے ہیں۔ مجلس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہو یا جنرل اسمبلی، روسیوں کو ان کی کسی تجویز، سرزنش کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ہم مجلس اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیم کی اس پامالی سے نہ کل خوش تھے اور نہ آج کیوں کہ امریکہ، اس کے یورپی حلیفوں اور آج روس جو کچھ کر رہے ہیں اس سے وہ عالمِ انسانیت کو ایک آزمائش سے دو چار کر رہے ہیں اور یونیائیٹیڈ نیشن آرگنائزیشن کو ایک اَن نیچرل آرگنائزیشن بنانے پر تُلے ہوئے کیا ہیں بلکہ اسے کسی قدر اپاہج بنا دیا ہے اور وہ ایک عزم معطل سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں رہ گئی ہے۔
ہندوستان کی حکومت نے اس سلسلے میں بہت سمجھداری کا معاملہ کیا ہے۔ اس نے ایک غیرجانبدار ملک کی حیثیت سے روس اور یوکرین دونوں کے بیچ میں ایک بہترین توازن برقرار رکھتے ہوئے کسی طرح سے یہ جنگ رک جائے اس کی ہر ممکن کوششیں کی ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم شری نریندر مودی نے روس اور یوکرین کے صدور سے کئی دفعہ بات کی ہے اور دونوں کو جنگ سے باز رہنے کو کہا ہے۔ ہندوستان کی ایک بڑی تشویش ہمارے وہ نوجوان طلبہ و طالبات ہیں جو کہ یوکرین میں میڈیکل کی ڈگریاں لینے کے لئے وہاں زیرتعلیم ہیں۔ تادمِ تحریر مشن گنگا کے تحت ایک بڑی تعداد کو وہاں سے لایا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے دو نوجوان جو اپنے اور اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لئے ڈاکٹر بننے یوکرین گئے تھے، لقمۂ اجل بن گئے اور ایک زخمی حالت میں وطن واپس لایا گیا ہے۔ پریشانی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جنگ زدہ یوکرین کے لوگ ان لوگوں کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کر پا رہے ہیں۔ اُدھر وہ جس خوف کے نفسیات کا شکار ہیں، موت کا رقص اپنے چاروں طرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لئے سردی میں بَنکروں میں قید رہنا، کھانے پینے اور ضروری حاجتوں سے فراغت کے لئے انتظام نہ ہونا ایک ایسا دشوار گزار، تکلیف دہ اور اعصاب کشیدہ ماحول ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ایک لمحے بھی یوکرین میںنہیں رہنا چاہتے ہیں۔ یہ اطمینان کی بات ہے کہ حکومتِ ہند ہو یا حزبِ اختلاف کی جماعتیں، سب کو ہندوستانی بچے اور بچیوں کی نہ صرف فکر لاحق ہے بلکہ وہ انہیں لانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے علاوہ وزیر خارجہ اس سلسلے میں پوری طرح فکرمند ہیں اور وزیر اعظم نے چار مرکزی وزراء کی ایک ٹیم ان ہندوستانی بچے اور بچیوں کو وہاں بہ حفاظت ہندوستان لانے کے لئے متعین کر دی ہے۔
ابھی تک ہم اس بات پر بہت نازاں تھے کہ دنیا ایک گاؤں میں بدل گئی ہے لیکن اس جنگ کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ دنیا کے عالمی گاؤں بننے کے جہاں بہت خوش گوار پہلو ہیںوہاں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اگر دو ملکوں کے درمیان بھی ٹکراؤ ہو جائے تو وہ ساری دنیا کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر روس اور یوکرین کی جنگوں کے نتیجے میں جس طرح سے دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہونے جا رہی ہے اور جس طرح امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنی شروع کر دی ہیں اس سے ایک بار پھر ایسا لگتا ہے کہ ہم سوویت روس ک سقوط سے پہلے دنیا میں داخل ہونے جا رہے ہیں یعنی روس اور امریکن و یورپین بلاکوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ایک طرف روس، چین، ایران اور پاکستان جیسے ملک ہیں اور ساتھ ہی جس طرح سعودی عرب اور یو اے ای وغیرہ امریکی صدر جوئے بائیڈن سے دوری بنائے ہوئے اور بات کرنے تک کو تیار نہیں ہیں، اس نے ایک بار پھر ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ پنڈت نہرو کی قیادت میں ہندوستان نے جس طرح سے ایک غیرجانب دار تحریک کو جنم دیا تھا وہ کتنی صحیح تھی جس میں ’’ناؤ کسی سے دوستی ناؤ کسی سے بیر‘‘ کا اصول کارفرما تھا۔
امریکہ اور اس کے مغربی ملکوں کے حلیفوں کو شاید پہلی دفعہ پتا چل رہا ہے کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں جس طرح افغانستان، عراق، شام، یمن اور لیبیا کو برباد کیا یا ہونے دیا آج وہ کس منہ سے یوکرین کی تباہی پر سینہ کوبی کر رہے ہیں؟ ہم کل بھی امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں کے جنگی جنون کے خلاف تھے اور آج بھی یوکرین میں جو جنگ ہو رہی ہے اس کے خلاف ہیں۔ ہماری خداسے دعا ہے کہ یہ جنگ رک جائے، ہمارے بچے اور بچیاں بہ حفاظت ملک واپس آ جائیں تاکہ وہ، ان کے والدین اور دیگر متعلقین اور ہندوستانی قوم جس طرح سے ہر لمحہ پریشانی اور فکرمندی سے دو چار ہیں اس سے نجات مل سکے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)

تبصرہ کریں

Back to top button