ریاستی بند کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی:ہائی کورٹ

یہ بند اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت کے خلاف احتجاجاً منایا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایم ایس کارنک کی ڈیویژن بنچ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اگر چاہیں تو اندرون تین ہفتے اپنے حلف نامے داخل کرسکتی ہیں۔

ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اکتوبر میں مہاراشٹرا میں تین حکمراں جماعتوں کے ایک روزہ ریاست گیر بند کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی درخواست پر شیوسینا، کانگریس اور این سی پی کو جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتوں کا وقت دیا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر تینوں پارٹیاں اپنا جواب داخل نہیں کرتی ہیں تو وہ نتائج کا سامنا کرنے تیار رہیں۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر جولیو ریبیریو سمیت چار سینئر شہریوں نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کرتے ہوئے مہاوکاس اگھاڑی کی تین حلیف جماعتوں کی جانب سے 11/ اکتوبر 2021کو اعلان کردہ ایک روزہ بند کو چیلنج کیا تھا۔

یہ بند اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت کے خلاف احتجاجاً منایا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایم ایس کارنک کی ڈیویژن بنچ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اگر چاہیں تو اندرون تین ہفتے اپنے حلف نامے داخل کرسکتی ہیں۔ ورنہ ہم (عدالت) ان کے جواب کے بغیر عرضی پر سماعت کریں گے۔

 اگر وہ (سیاسی جماعتیں) اپنے حلف نامے داخل نہیں کرتیں تو پھر وہ اس کے نتائج کا سامنا کریں گی۔“ عرضی کے مطابق کسانوں کے احتجاج سے اظہاریگانگت کے لیے اعلان کردہ بند سے سرکاری خزانہ کو 3ہزار کروڑ روپئے کا نقصان پہنچا۔ہائی کورٹ نے دسمبر2021میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اپنے حلفنامے داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button