سائبر وارئیرس کا مستقبل تابناک: کے ٹی آر

کوٹلیجنٹ۔ سائبر وارئیرس کے سنٹر آف ایکسیلنس کا افتتاح انجام دینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ورک فرم ہوم کے نظریہ کے فروغ کی وجہ سے نیٹ ورکس پر دباؤ قائم ہوگا۔

حیدرآباد: ریاستی وزیر انفارمیشن و ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ملک میں سائبر وارئیرس کا مستقبل تابناک ہے۔ کووڈ وباء کے بعد ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ورک فرم ہوم کا نظریہ فروغ پایا ہے۔ آج کوٹلیجنٹ۔ سائبر وارئیرس کے سنٹر آف ایکسیلنس کا افتتاح انجام دینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ورک فرم ہوم کے نظریہ کے فروغ کی وجہ سے نیٹ ورکس پر دباؤ قائم ہوگا، جس کی وجہ سے سائبر جرائم میں اضافہ ہوگا، سائبر مجرمین کی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی۔

 ایسے میں ہر ادارہ کی توجہ ڈاٹا کی حفاظت پر مرکوز رہے گی۔ ڈاٹا کی حفاظت کیلئے سائبر وارئیرس کی ضرورت رہے گی۔ حکومت اس ضرورت کی تکمیل کیلئے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔کوٹلیجنٹ کے سائبر وارئیرس سنٹر آف ایکسیلنس کے قیام کو خوش آئندہ اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہم نلسار یونیورسٹی کے ساتھ ملکر سائبر کرائم کے انسداد کیلئے قوانین تدوین کررہے ہیں۔

 کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں انٹلیجنس کی کافی اہمیت ہے تاہم انٹلیجنس کسی کی شخصی جاگیر نہیں ہوسکتی۔ انٹلیجنس سے بہتر استفادہ ہزاروں افراد کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے اس لئے حکومت انٹر پرنیر شپ کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ملک کی نصف سے زائد آبادی20 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ70 فیصد آبادی کی عمر35 سال سے کم ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ملک کی مستقبل کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے اختراعی سوچ اور باصلاحیت ورک فورس کی ضرورت ہے۔ اس ورک فورس کو ملازمت کی فراہمی کیلئے حکومت و دیگر پر انحصار کرنے کے بجائے خود روزگار کی فراہمی کے قابل بننا اہمیت رکھتا ہے۔

کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں صرف3فیصد ملازمتیں سرکاری شعبہ سے ہیں جبکہ ریاست میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حکومت پر تعلیم یافتہ شخص کو روزگار فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ بڑے حصہ کو روزگار سے جوڑنے کیلئے بیرونی کمپنیوں اور اور سرمایہ کاروں کو راغب کیا جارہا ہے۔

حکومت پر تعلیم یافتہ شخصی کو روزگار فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ بڑے حصہ کو روزگار سے جوڑنے کیلئے  بیرونی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو راغب کیا جارہا ہے۔ حکومت کی اختراعی ٹی ایس آئی پاس پالیسی کار آمد ثابت ہوئی ہے جس سے ریاست میں سرمایہ مشغول کرنے میں مدد حاصل ہوئی ہے۔ لاکھوں افراد کو روزگار حاصل ہوا ہے۔

 ریاستی وزیر نے کہا کہ صلاحیت اور جستجو سے ہی ملازمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ہم کو اپنی تمام ترصلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست ہے۔ ریاست میں کمپنیوں کے قیام کیلئے مراعات دی جارہی ہیں۔ 50 فیصد مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی پر اضافی مراعت دئیے جاتے ہیں۔

چونکہ حیدرآباد تیزی سے عالمی شہر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ اگر کمپنیوں پر صدفیصد مقامی افراد کو روزگار فراہم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے تویہ کمپنیاں دوسرے شہروں اور ریاستوں میں منتقل کرنے کا خطرہ ہے۔ نیز کمپنیوں کی ترقی باصلاحیت افراد کی کارکردگی سے جڑی ہوتی ہے۔ اس لئے کمپنیوں پر باؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت، سائبر وارئیرس کی تربیت کیلئے ممکنہ تعاون کرے گی۔ قبل ازیں کے ٹی راما راؤ نے حکومت تلنگانہ کی طرف سے کوٹلیجنٹ کے ساتھ2026 تک1000سائبر وارئیرس کی فراہم کرنے کیلئے ایک یاد داشت مفاہمت پر دستخط کئے۔ اس موقع پر پرنسپل سکریٹری محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی جیش رنجن اور سی ای او کوٹلیجنٹ سری ک رن پائی بنڈلہ موجود تھے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button