سبکدوشی سے 3 دن قبل آستھانہ کو سپریم کورٹ کی نوٹس

غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے داخل کردہ درخواست میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو جس میں کہا گیا کہ دہلی پولیس کمشنر کی حیثیت سے آستھانہ کے تقرر میں کوئی بے قاعدگی نہیں ہے کو چیلنج کیا گیا۔

نئی دہلی: دہلی پوlیس کمشنر کی حیثیت سے تقرر کو چیلنج کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت اور پرکاش آستھانہ کو ملازمت سے سبکدوشی سے صرف تین دن قبل نوٹس جاری کیا۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی زیرصدارت بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم جاری کیا۔ مفادِ عامہ کے مقدمات دائر کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے درخواست کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔

مرکزی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور آستھانہ کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی بنچ پر پیش ہوئے۔

غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے داخل کردہ درخواست میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو جس میں کہا گیا کہ دہلی پولیس کمشنر کی حیثیت سے آستھانہ کے تقرر میں کوئی بے قاعدگی نہیں ہے کو چیلنج کیا گیا۔

مختصر سماعت کے بعد عدالت ِ عظمیٰ نے مقدمہ میں فریقین کو جوابی حلف نامہ داخل کرنے دو ہفتے کی مہلت دی۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ پر مشتمل بنچ نے 12 اکتوبر کو کہا تھا کہ قبل ازیں صادر کردہ فیصلوں کے پیش نظر اسے آستھانہ کے تقرر میں کوئی بے قاعدگی یا مرکز کی جانب سے کوئی خلاف ورزی نہیں دکھائی دیتی، کیوں کہ ایک دہے سے زیادہ عرصہ سے یہ طریقہ کار اپنایا جارہا ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ مرکز کو اختیار ہے اور اس کے دائرہ کار میں شامل ہے کہ مفادِ عامہ میں بین کیڈر عہدیداروں کا تقرر کیا جائے۔ عدالت نے آستھانہ کی 31 جولائی کو وظیفہئ حسن خدمت سے کچھ پہلے 27 جولائی کو ان کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button