”ستیہ میوجائیتے“: ذکیہ جعفری کیس کے فیصلہ پر بی جے پی قائدین کا رد عمل

سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ برائے گجرات فسادات کی جانب سے دی گئی کلین چیٹ کو جائز قرار دینے پر مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ”ستیہ میوجائیتے“ کہا۔

نئی دہلی: مقتول کانگریس لیڈر احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی جانب سے داخل کردہ درخواست مرافعہ جس میں اُس وقت کے چیف منسٹر گجرات پر وسیع سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا جو وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر 63 کو 2002ء میں گجرات فسادات میں ملوث ہونے کے خلاف ایس آئی ٹی کی کلین چیٹ دی گئی پر سپریم کورٹ کی جانب سے جائز قرار دینے کے فیصلہ پر بی جے پی کی لیڈروں نے آج متفقہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ”ستیہ میو جائیتے“ کہا۔

سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ برائے گجرات فسادات کی جانب سے دی گئی کلین چیٹ کو جائز قرار دینے پر مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ”ستیہ میوجائیتے“ کہا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ درخواست بغیر جواز کے ہے، ایک اور مرکزی وزیر سمرتی ایرانی اور پارٹی ترجمان سمپت پاترا نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ”ستیہ میو جائیتے“ دہرایا۔

بی جے پی سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ مودی کو ملوث کرنے کانگریس کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی اور انصاف حاوی ہوگیا۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے الفاظ کو دہرایا کہ درخواست مرافعہ بغیر کسی جواز کے ہے۔

تحقیقات کے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کو ختم کرتے ہوئے جسٹس اے ایم کھنویلکر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جمع کردہ شواہد سے وسیع مجرمانہ سازش کے تعلق سے سنگین شبہات پیدا نہیں ہوتے جو مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کا سبب بن سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ بنچ جس میں جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سی ٹی روی کمار بھی شامل تھے نے کہا کہ ذکیہ جعفری کی درخواست جواز سے مبرا ہے۔

درخواست میں پیچیدہ حکمت عملی اختیار کی گئی ہے تاکہ موضوع برقرار ہے اور یہ بظاہر خفیہ منصوبہ کے تحت کیا گیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ اِس میں شامل تمام افراد کو عدالتی کارروائی کے غلط استعمال کے لئے جواب دہ ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق اُن کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

تبصرہ کریں

Back to top button