سری لنکا میں ایندھن کا ذخیرہ ختم

سری لنکا میں ایندھن ختم ہوگیاہے اورپیر کی نصف شب سے صرف لازمی خدمات برقرار رہیں گی۔ لازمی خدمات کی فہرست میں نگہداشت صحت،نظم و ضبط‘بندرگاہیں‘ایرپورٹ‘ غذائی تقسیم اورزراعت شامل ہیں۔

نئی دہلی: سری لنکا میں ایندھن ختم ہوگیاہے اورپیر کی نصف شب سے صرف لازمی خدمات برقرار رہیں گی۔ لازمی خدمات کی فہرست میں نگہداشت صحت،نظم و ضبط‘بندرگاہیں‘ایرپورٹ‘ غذائی تقسیم اورزراعت شامل ہیں۔ تمام غیرلازمی خدمات کو10۔ جولائی تک معطل کردیاگیا ہے۔

سرکاری ترجمان بنڈولاگنا وردھنانے کہاکہ ”آج نصف شب سے سوائے لازمی خدمات کے جیسے شعبہ صحت کے علاوہ کسی کوایندھن فراہم نہیں کیاجائے گا۔ کیونکہ ہم اپنے پاس موجود تھوڑے بہت ذخائر کوبچاکر رکھناچاہتے ہیں۔“

خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے یہ اطلاع دی۔ اسکول بند رہیں گے اورخانگی دفاتر کے ملازمین کو گھرسے کام کرنے کیلئے کہاگیاہے۔سرکاری ملازمین سے بھی کہاگیاہے کہ وہ گھرسے کام کرنے کوترجیح دیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہواہے کہ22ملین نفوس پر مشتمل جزیرہ نماملک میں ایندھن ختم ہوگیاہے۔

سری لنکا1948میں اپنی آزادی کے بعد سے ایک بڑے اقتصادی بحران کا شکار رہا ہے اورگزشتہ سال سے غذا، دوائیں اورایندھن درآمد کرنے سے قاصر ہے۔جاریہ ماہ کے اوائل میں پبلک اڈمنسٹریشن کی وزارت نے تمام محکموں، سرکاری اداروں اورمقامی کونسلس کوہدایت دی تھی کہ وہ برائے نام خدمات فراہم کریں۔

وزارت نے اپنے احکام میں کہاتھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اورخانگی گاڑیوں کاانتظام کرنے سے قاصر رہنے کے سبب اس نے کام پر آنے والے ملازمین کی تعدادمیں بھاری کمی کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ روز ہی اپنا ہنگامی پروگرام شروع کیاہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سری لنکا میں ہرپانچ کے منجملہ چارافرادکھاناخریدنے سے قاصر ہیں اوراسی لئے وہ بھوکے رہ رہے ہیں۔ ورلڈفوڈ پروگرام نے کہاہے کہ اس نے کولمبو کے بعض حصوں میں تقریباًدوہزارحاملہ خواتین میں کھانے کے واؤچرس تقسیم کرنا شروع کئے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button