سری لنکا پوری طرح تباہی کے دہانے پر

سری لنکا تباہی کا شکار ہوچکا ہے، عوام پٹرول پمپس پر قطار بنائے کھڑے ہیں مگر وزیر توانائی کا اعلان سامنے آتا ہے کہ ہمارے پاس پٹرول خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہیں اور آپ لوگ اپنے اپنے گھر واپس چلے جائیں۔

حیدرآباد: سری لنکا تباہی کا شکار ہوچکا ہے، عوام پٹرول پمپس پر قطار بنائے کھڑے ہیں مگر وزیر توانائی کا اعلان سامنے آتا ہے کہ ہمارے پاس پٹرول خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہیں اور آپ لوگ اپنے اپنے گھر واپس چلے جائیں۔ اُنہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پٹرول پمپ پر قطاریں نہ بنائیں کیونکہ ملک میں پٹرول کا ایک خطرہ موجود نہیں ہے۔

بتایاگیا ہے کہ کولمبوں کی بندرگاہ پر فیول سے بھرے ہوئے کئی جہاز کھڑے ہوئے ہیں ۔ یہ جہاز 28 مارچ سے وہاں کھڑے ہیں مگر سری لنکا کی حکومت کے پاس ڈالرس میں ادائیگی کیلئے نقدی ختم ہوگئی ہے۔ وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ ہم فنڈس حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سری لنکا کا یہ معاشی بحران 1948 کے بعد اب تک کا سب سے زیادہ گہرا معاشی بحران ہے۔

بیرونی زر مبادلہ پورا کا پورا ختم ہوچکا ہے۔ وہ ادائیگیاں کرنے سے قاصر ہیں۔ 17 اپریل کے بعد وہ ایسی ادائیگیاں کرنے میں ناکام ہے جن کے ذریعہ مختلف ساز وسامان سری لنکا پہنچتا ہے۔ سری لنکا پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ کوپن پے منٹس کرنے سے قاصر ہے۔ اُسے 30 دن کی مہلت بھی دی گئی تھی جو کل چہارشنبہ کو ختم ہوگئی۔

ملک کے وزیر توانائی کنچنا وجئے شیکھرا نے آج پارلیمنٹ کو بتایاکہ فیول کی خریدی کیلئے سری لنکا کے پاس ڈالر نہیں بچے ہیں۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پٹرول پمپ نہ جائیں۔ اُنہوں نے امکان ظاہر کیاکہ اِس ہفتہ کے اواخر تک کچھ نہیں کیاجاسکتا۔ اُنہوں نے بتایاکہ اعدادوشمار خواہ جو بھی ہوں ہمارے پاس ایک ملین ڈالر بھی موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں گذشتہ ماہ سے شدید معاشی بحران جاری ہے اور اِس کیلئے عوام ملک میں حکمراں راجہ پکسے خاندان کو ذمہ دار قراردیتے ہیں۔ سیاحت پر منحصر یہاں کی معیشت کووڈ کی وجہ سے بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button