سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل پابندی آمرانہ اقدام: انجمن اوقاف

ایک بار پھر علی الصبح حکام اور پولیس نے اوقاف کے ملازمین کو مسجد کے دروازے کھولنے سے روک دیا جس سے مقامی اور دور دراز علاقوں سے آنے والے نماز جمعہ ادا کرنے والے لوگوں کو اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی سے روک دیا۔

سری نگر: انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے جموں وکشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ اور روحانی مرکز جامع مسجد سری نگر کو مسلسل 18 ویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ جیسے اہم فریضے کی ادائیگی پر پابندی کو آمرانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انجمن کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکام کی یہ کارروائی درجہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

بیان میں کہا گیا: ’آج ایک بار پھر علی الصبح حکام اور پولیس نے اوقاف کے ملازمین کو مسجد کے دروازے کھولنے سے روک دیا جس سے مقامی اور دور دراز علاقوں سے آنے والے نماز جمعہ ادا کرنے والے لوگوں کو اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی سے روک دیا‘۔ انجمن نے حکام کی جانب سے مرکزی جامع مسجد کے ساتھ روا رکھی گئی پالیسیوں پر فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جامع مسجد کو جبراً بند رکھنے کے تمام ریکارڈ مات کردئے گئے ہیں اور طاقت کے بل پر عوام کے مذہبی حقوق سمیت تمام تر حقوق سلب کئے جارہے ہیں جو مسلمانان کشمیر کے لئے سخت بے چینی اور اضطراب کا باعث ہے‘۔

بیان میں انجمن کے سربراہ میرواعظ محمد عمر فاروق جنہیں کی مسلسل نظربندی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا گیا: ’کشمیر کے سب سے بڑے مذہبی قائد کو اپنی منصبی ذمہ داریوں اور پر امن سرگرمیوں سے روکنا عوام کے تمام طبقوں کیلئے ناقابل قبول ہے‘۔

بیان میں انجمن نے مرکزی جامع مسجد کو نماز جمعہ کے لئے کھولے جانے اور موصوف میرواعظ کشمیر کی نظر بندی کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button