سوشمیتا سین نے مس یونیورس کے فائنل راؤنڈ کا وہ سوال جو سمجھا نہیں تھا

مس یونیورس مقابلہ کے آخری راؤنڈ میں سشمیتا سے پوچھا گیا کہ ’آپ کیلئے عورت ہونے کا احساس کیا ہے؟‘ جس پر سشمیتا نے جواب دیا کہ ’ایک عورت ہونا اُوپر والے کا تحفہ ہے جس کی ہم سب کو قدر کرنی چاہیے۔

ممبئی:1994 میں مس یونیورس کا تاج اپنے اپنے نام کرنے والی بالی وڈ اداکارہ سوشمیتا سین نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس مقابلہ کے فائنل راؤنڈ میں پوچھے گئے آخری سوال کو پوری طرح سے سمجھ نہیں سکی تھیں۔

مس یونیورس مقابلہ کے آخری راؤنڈ میں سشمیتا سے پوچھا گیا کہ ’آپ کیلئے عورت ہونے کا احساس کیا ہے؟‘ جس پر سشمیتا نے جواب دیا کہ ’ایک عورت ہونا اُوپر والے کا تحفہ ہے جس کی ہم سب کو قدر کرنی چاہیے۔ بچے کی اصل ماں ہے جو عورت ہے۔ وہ ایک آدمی کو دکھاتی ہے کہ دیکھ بھال، اشتراک اور محبت کیا ہے۔ یہ ایک عورت ہونے کا احساس ہے۔‘

سشمیتا نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اوپروالے نے مجھ سے کہا کہ یہ کہہ دو میں نے کہا تھا کہ عورت کا پیدا ہونا خدا کا عظیم تحفہ ہے۔میں اُس پر قائم ہوں۔

اپنی بیٹی علیسہ کے اسکول میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب سشمیتا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اتنے برس بعد اپنے جواب میں کوئی تبدیلی کرنا چاہیں گی تو سشمیتا نے کہا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ مجھے اس سوال اور اس جواب کے بارے میں کیا پسند ہے جب میں نے اتنے برسوں بعد غور کیا کہ انہوں نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ عورت کی خصوصیات کیا ہیں یا عورت کی صفات کیا ہیں بلکہ ان کا سوال تھا کہ عورت ہونے کا احساس کیا ہے؟‘

سشمیتا نے بتایا کہ ’میں ہندی میڈیم اسکول سے تھیں اس لئے مجھے ان دنوں اتنی انگریزی نہیں آتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے احساس کا مطلب کیسے سمجھا اور اس سوال کا جواب اتنی وضاحت اور تجربہ سے دیا حالانکہ اس وقت اس کی کمی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اوپروالے نے مجھ سے کہا کہ یہ کہہ دو۔ میں نے کہا تھا کہ عورت کا پیدا ہونا خدا کا عظیم تحفہ ہے۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں بدلا۔ یہ خدا کا ایک عظیم تحفہ ہے اور ہم سب کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔ عورت کے ذریعہ نہ صرف زندگی وجود میں آتی ہے، وہ نہ صرف ماں بننے کیلئے پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ دنیا کو بتاتی ہے کہ محبت، دیکھ بھال اور اشتراک کیا ہے۔‘

سشمیتا سین کا کہنا تھا کہ ’آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو میں یہ کہوں گی کہ میرے خدا، واقعی ایک عورت ہونا طاقتور ہے۔ کیا میں اس میں کچھ شامل کروں گی؟ آج 28  سال بعد؟ تو پھر (اس بیان میں) خود کی دریافت شامل کرنا چاہوں گی۔ عورت کو یہ دریافت کرنا چاہیے کہ وہ اندر سے کون ہے۔ یہ عورت ہونے کا احساس ہے۔‘

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button