سلیمان اور دیگر لڑکوں کیلئے انصاف حاصل کرنے کا عزم

سلیمان کا خاندان وہ واحد خاندان تھا جس نے پولیس ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی اور ان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ 7 بچوں کی ماں اکبری خاتون کا کہنا ہے کہ ٹکٹ کیلئے پرینکا گاندھی وڈرا کی پیش کش قبول کرنا، حصول انصاف کیلئے ان کی دوسری کوشش ہے۔

نئی دہلی: بجنور کی کانگریس امیدوار اکبری خاتون کا کہنا ہے کہ میں اپنے لڑکے اور اس کے جیسے دیگر کئی لڑکوں کیلئے انصاف حاصل کرنے یہ الیکشن لڑ رہی ہوں جن پر اس حکومت نے ظلم کیا ہے۔

2019 کے اواخر میں ان کا 20 سالہ لڑکا محمد سلیمان ان 22 افراد میں شامل تھا جو شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آرسی کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد میں ہلاک ہوئے تھے۔

سلیمان کا خاندان وہ واحد خاندان تھا جس نے پولیس ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی اور ان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ 7 بچوں کی ماں اکبری خاتون کا کہنا ہے کہ ٹکٹ کیلئے پرینکا گاندھی وڈرا کی پیش کش قبول کرنا، حصول انصاف کیلئے ان کی دوسری کوشش ہے۔

کانگریس نے چہارشنبہ کے روز اکبری خاتون کی نامزدگی کا اعلان کیا اور انہوں نے جمعرات کے روز اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا۔ پرینکا گاندھی نے سلیمان کی موت کے بعد اس خاندان سے ملاقات کی تھی۔ سلیمان جو گریجویشن کے آخری سال میں تھا اس وقت نوئیڈا میں رہتے ہوئے یوپی ایس سی امتحانات کی تیاری کررہا تھا۔

وہ ضلع بجنور کے نہتور میں واقع اپنے گھر واپس آیا تھا کیونکہ اسے بخار تھا۔ اس کے ارکان خاندان نے بتایا کہ احتجاج کے خلاف پولیس کی کاروائی میں وہ پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ بجنور پولیس نے پہلی مرتبہ اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے سلیمان ایک پولیس کانسٹیبل موہت کمار کی فائرنگ میں ہلاک ہوا۔

پولیس کے مطابق کانسٹبل نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی تھی۔ بہرحال جولائی 2020 میں بجنور پولیس کی ایس آئی ٹی نے 6 پولیس ملازمین بشمول نہتور پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو کلین چٹ دے دی اور سلیمان پر تشدد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

سلیمان کے ماموں افضل احمد عثمانی کا جو ایک وکیل ہیں‘ یہ کہنا ہے کہ اس خاندان نے مقامی چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایس آئی ٹی کے نتیجہ کو چیلنج کیا ہے۔ عثمانی نے جو انتخابی مہم میں خاتون کی مدد کررہے ہیں، کہا کہ اس معاملہ میں دو مرتبہ بحث ہوچکی ہے لیکن ابھی تک کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button