سمیر وانکھیڈے کو بمبئی ہائی کورٹ سے جھٹکہ

بھاروچہ نے کہا کہ وزیر کے خلاف جھوٹے الزامات اور بیانات دیے گئے ہیں۔“ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس عرضی پر عاجلانہ سماعت کرنے والی نہیں ہے بلکہ مناسب وقت پر سماعت کرے گی۔ جسٹس پٹیل نے استفسار کیا کہ محض اس لیے کہ آپ (وانکھیڈے اور ملک) میڈیا میں لفظی جنگ میں ملوث ہیں، کیا ہمیں عاجلانہ سماعت کو منظوری دینی چاہیے؟

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا کہ این سی بی کے سابق ممبئی زونل ڈائرکٹر سمیر وانکھیڈے کی جانب سے ایک دن قبل داخل کردہ عرضی کو عدالت کی اجازت کے بغیر عاجلانہ سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ جسٹس گوتم پٹیل او رمادھو جامدار کی ڈیویژن بنچ نے عرضی پر فوری سماعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس میں عجلت کی کوئی بات نہیں ہے۔

2008ء بیاچ کے آئی آر ایس عہدیدار وانکھیڈے نے پیر کو عرضی داخل کرتے ہوئے تھانے کے ایکسائز کلکٹر کے احکام کو چیلنج کیا تھا جس میں نوی ممبئی میں واقع ان کے ریسٹورنٹ اور بار کے شراب کا لائسنس کا منسوخ کردیا گیا تھا۔ سمیر نے اپنی عرضی میں منسوخ لائسنس بحال کرنے کی درخواست کی۔

جسٹس پٹیل نے کہا کہ یہ عرضی آج سماعت کے لیے کیسے آئی جب پیر کو ہم سے اس کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ہم نے اس کی اجازت نہیں دی۔“ وانکھیڈے کی وکیل وینا تھڈانی نے عدالت کو بتایا کہ وہ پیر کو معاملے کا ذکر کرنے کے منتظر تھے، مگر عدالت کے عملہ نے کہا کہ اسے منگل کو لسٹ کیا جائے گا۔

بنچ نے عدالتی عملہ کو ایسا کرنے پر انتباہ دیا۔ جسٹس جامدار نے کہا کہ ایک غریب شخص عرضی داخل کرتا ہے مگر اس کے معاملے کی کبھی سماعت نہیں ہوتی اور جب کوئی بااثر شخص عرضی داخل کرتا ہے تو عرضی کو فوری سماعت کے لیے لسٹ کردیا جاتا ہے۔ اتنی عجلت کیا ہے؟ کیا آسمان ٹوٹ پڑے گا؟ مہاراشٹرا کے کابینی وزیر نواب ملک کے وکیل فیروز بھاروچا جو اس کیس میں فریق ہیں نے عرضی کی نقل طلب کی اور اس پر جواب دینے کی مہلت مانگی۔

بھاروچہ نے کہا کہ وزیر کے خلاف جھوٹے الزامات اور بیانات دیے گئے ہیں۔“ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس عرضی پر عاجلانہ سماعت کرنے والی نہیں ہے بلکہ مناسب وقت پر سماعت کرے گی۔ جسٹس پٹیل نے استفسار کیا کہ محض اس لیے کہ آپ (وانکھیڈے اور ملک) میڈیا میں لفظی جنگ میں ملوث ہیں، کیا ہمیں عاجلانہ سماعت کو منظوری دینی چاہیے؟

“ وانکھیڈے نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیا کہ  ان کے خلاف آغاز کردہ اقدامات انتقامی ہیں کیوں کہ انہوں نے ملک کے داماد کو منشیات کے کیس میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ممبئی این سی بی کے ڈائرکٹر تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ریاستی محکمہ آبکاری اور پولیس نے ”سیاسی دباؤ“ میں آکر ان کے خلا ف کارروائی کی۔ عرضی کے مطابق لائسنس اکتوبر1997 کو عطا کیا گیا اور 2021تک اس کی متعدد بار تجدید کی گئی۔

وانکھیڈے کے وکیل وشال تڈانی نے کہا کہ میرے موکل (وانکھیڈے) کی جانب سے نواب ملک کے داماد کو ڈرگس کیس میں گرفتار کیے جانے کے بعد وزیرنے نومبر 2021 میں تھانے کے آبکاری کلکٹر کو مکتوب تحریر کرکے لائسنس پر سوالات اٹھائے تھے۔“ مکتوب کے موافق تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور وانکھیڈے کو تین وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی۔ ان کے موقف کی سماعت کے بعد لائسنس منسوخ کردیا گیا۔

 لہٰذا انہوں نے عدالت سے رجوع ہو کر منسوخی کو چیلنج کیا اور لائسنس کی بحالی کی اپیل کی۔“ وانکھیڈے نے ریاستی آبکاری کمشنر سے اپیل کی تھی جنہوں نے بظاہر احکام پر روک لگانے سے زبانی طور پر انکار کردیا۔ اپنی عرضی میں وانکھیڈے نے کہا کہ انہیں اپنی عمر کا انکشاف نہ کرنے کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیو ں کہ بیرونی شراب کے لائسنس کے لیے درخواست دیتے قاعدہ کے مطابق عمر کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا اور درخواست فارم میں بھی درخواست گزار کی عمر کے انکشاف کا خانہ فراہم نہیں کیا گیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button