سنٹرل انڈین ٹریڈ یونینس کی ملک گیر ہڑتال کا ملا جلا ردّ ِ عمل

سنٹرل انڈین ٹریڈ یونینس (سی آئی ٹی یو) کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال کے پہلے دن پیر کو ملا جلا اثر رہا۔ صنعت، بینکنگ، بجلی اور کان کنی کے شعبوں میں کاروبار متاثر ہوا جب کہ سڑکوں کی نقل و حمل، ٹرین اور بازاروں میں ہموار آپریشن نظر آیا۔

نئی دہلی/ بھوپال / چنڈی گڑھ / گوہاٹی: سنٹرل انڈین ٹریڈ یونینس (سی آئی ٹی یو) کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال کے پہلے دن پیر کو ملا جلا اثر رہا۔ صنعت، بینکنگ، بجلی اور کان کنی کے شعبوں میں کاروبار متاثر ہوا جب کہ سڑکوں کی نقل و حمل، ٹرین اور بازاروں میں ہموار آپریشن نظر آیا۔

پرائیویٹائزیشن، مزدور مخالف پالیسیوں اور مہنگائی کے خلاف بلائی گئی اس سی آئی ٹی یو کی ہڑتال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حامی بھارتیہ مزدور سنگھ شامل نہیں ہے۔

بائیں بازو اور دراوڑ منیتر کزگم نے کارکنوں کی حمایت میں پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا۔سی آئی ٹی یو نے دعویٰ کیا ہے کہ کیرالہ، مغربی بنگال، تریپورہ، ہریانہ اور تمل ناڈو میں ہڑتال کا کافی اثر پڑا ہے۔

صنعتی اداروں سمیت بینک، مالیاتی ادارے اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر رہا۔ سی آئی ٹی یو نے بینکنگ اور انشورنس سیکٹر میں ہڑتال کو کامیاب قرار دیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومت سے متعلق اداروں کے ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیلی کام، بندرگاہ، پیٹرولیم، اسٹیل، سیمنٹ، کوئلہ اور بجلی کے شعبوں میں مکمل ہڑتال رہی اور کوئی کام کاج نہیں ہوا۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں بھی کوئی کام کاج نہیں ہوا۔سی آئی ٹی یو نے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ آنگن واڑی ورکرس، آشا ورکرس اور مڈ ڈے میل ورکرس نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی مزدوروں، بیڑی مزدوروں، ریہڑی پٹری کے دکانداروں، گھریلو ملازمین اور صفائی کے کارکنوں نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا۔

دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں اور منریگا کارکنوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی۔ قومی دارالحکومت دہلی اور اس سے ملحقہ علاقوں گروگرام، نوئیڈا اور فرید آباد میں ہڑتال کا ملا جلا اثر رہا۔

کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے ٹی) نے کہا ہے کہ پورے ملک میں گھریلو تجارت اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے کارکنوں نے ہڑتال کی اس اپیل کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور ملک کا ‘نان کارپوریٹ سیکٹر’ اس ہڑتال سے مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئے۔ پورے ملک میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔

پورے ملک کی تمام تجارتی منڈیوں میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔مرکزی وزارت توانائی نے پاور گرڈ کا کام کاج معمول کے مطابق رکھنے کے لئے ریاستوں اور پاور سیکٹر کے پی ایس او ز کو ضروری ہدایات دی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے اپنی تمام شاخوں اور دفاتر کے معمول کے کام کاج کو یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ملک گیر مزدور وں کی ہڑتال میں تقریباً چار لاکھ بینک ملازمین نے حصہ لیا۔ آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) نے بھی بینکنگ سیکٹر کی مانگ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button