سنگھو بارڈر پر ہاتھ کٹی نعش برآمد

سمیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے نہنگ سکھوں (مسلح جنگجو سکھوں) کو اس کے لئے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ پولیس نے نعش کو قریبی سیول ہسپتال منتقل کردیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

نئی دہلی: ہریانہ۔ دہلی سنگھو بارڈر پر جمعہ کی صبح ایک نامعلوم شخص کی نعش پولیس بیریکیڈ سے بندھی پائی گئی۔ اس کا بایاں ہاتھ کٹا ہوا پایا گیا۔ نعش‘ احتجاجی کسانوں کے اسٹیج کے قریب ملی۔ سوشیل میڈیا پر زیرگشت تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نعش پر کئی نشان ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قتل سے قبل ہجوم نے اسے مارا پیٹا۔ نیم برہنہ نعش پر صرف ایک گندی‘ خون آلود دھوتی پائی گئی۔ الزام ہے کہ یہ شخص سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرتا پکڑا گیا تاہم سرکاری سطح پر اس کی توثیق نہ ہوسکی۔

پولیس نے نعش کو قریبی سیول ہسپتال منتقل کردیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ سمیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے نہنگ سکھوں (مسلح جنگجو سکھوں) کو اس کے لئے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ مورچہ نے میڈیا سے کہا کہ نہنگ سکھ‘ روزِ اول سے مقام احتجاج اور اس کے اطراف مسائل پیدا کررہے ہیں۔ مورچہ نے اس واقعہ سے خود کو لاتعلق کرلیا۔

 ہریانہ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ ایف آئی آر کے بموجب ہریانہ پولیس کو جمعہ کی صبح 5 بجے اطلاع ملی کہ نہنگ سکھوں کے گروپ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور بعدازاں اسے آہنی بیریکیڈ سے رسی سے باندھ دیا۔ پولیس جب وہاں پہنچی تو اس نے دیکھا کہ نعش کے اطراف نہنگ سکھ کھڑے ہیں۔ کسی نے بھی نہ تو انکوائری میں تعاون کیا اور نہ بیریکیڈ سے نعش نکالنے دیا۔ کوشش کے باوجود نعش کی شناخت نہ ہوسکی۔ فارنسک سائنس لیباریٹری کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

 پی ٹی آئی کے بموجب ہریانہ کے ضلع سونی پت میں کنڈلی کے مقام پر جہاں کسانوں کا احتجاج جاری ہے‘ ایک شخص کی نعش آہنی بیریکیڈ سے بندھی پائی گئی۔ ویڈیو کلپ میں نہنگ سکھوں کو یہ کہتے سناجاسکتا ہے کہ اس شخص کو سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کی سزا دی گئی۔ مہلوک لکھبیر سنگھ‘ پنجاب کے ضلع ترن تارن کا 35 سالہ مزدور بتایا جاتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button