آر ایس ایس تو دستور اور ترنگے کو تسلیم ہی نہیں کرتی تھی: اویسی

اتوار اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی قائدین جو آر ایس ایس کا حصہ ہیں‘جس نے 1950 میں نہ ہی دستور کو تسلیم کیا تھا اور نہ ہی ترنگے کو‘ وہ تو مجبوراً دستور اور قومی پرچم کو تسلیم کئے ہیں۔

حیدرآباد: صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ملک کے سیکولرازم کردار کو مذہبی آزادی سے جوڑتے ہوئے ایک انتہائی لغو بیان جاری کرنے پر ڈپٹی چیف منسٹر گجرات نتن پٹیل پر سخت تنقید کی اور استفسار کیا کہ آیا انہوں نے دستور ہند پر حلف لیا ہے یا گولوالکر کی کتاب پر حلف لیا ہے۔

اتوار کو یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی قائدین جو آر ایس ایس کا حصہ ہیں‘جس نے 1950 میں نہ ہی دستور کو تسلیم کیا تھا اور نہ ہی ترنگے کو‘ وہ تو مجبوراً دستور اور قومی پرچم کو تسلیم کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ہندو برادری کو بار بار، مسلمانوں کی آبادی کے بڑھ جانے کے بارے میں کیوں ڈراتے ہیں۔جس رفتار سے آبادی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اس اعتبار سے ملک میں ہندؤں کے اقلیت میں آنے کے لئے 225 برس سے زائد کا عرصہ لگ جائے گا جبکہ مستقبل میں آبادی میں اضافہ کی یہ شرح باقی نہیں رہے گی۔

اویسی نے کہا کہ ملک کے سیکولر کردار کا تعلق دستور سے ہے اور جب تک ملک میں دستور کی بالادستی قائم رہے گی کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی تعداد کے بڑھ جانے یا گھٹ جانے سے ملک کے سیکولرازم پر کوئی فرق نہیں آئے گا۔

ہمارا یہ دستور‘ مساوات پر مبنی ہے اور یہ ایک بنیادی حق ہے۔ انہوں نے افغانستان میں طالبان کے غلبہ پاجانے کے تناظر میں کہا کہ مودی حکومت نے طالبان کے تعلق سے اپنے مؤقف کا اظہار کرنے سے گریز کررہی ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آیا مودی حکومت، طالبان کے ان 100 قائدین کے نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرے گی؟ اگر نہیں تو کیا پھر ان طالبان کے خلاف قانون انسداد غیر قانونی سرگرمیوں کے تحت کارروائی کی جائے گی؟

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو طالبان قرار دیتی ہے مگر طالبان کے بارے میں اپنا مؤقف کھل کر بیا ن کرنے سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ جئے شنکر طالبان کا نام نہیں لیتے اور وزیر اعظم نریندر مودی چین کا نام نہیں لیتے۔

انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا بھارت، ان لوگوں کی کھل کر مدد کرے گا جو طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت حاشیہ میں آکر رہ گیا ہے۔ اویسی نے ہریانہ میں احتجاجی کسانوں پر طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح ایک ایس ڈی پی، کسانوں کے سر پھوڑدینے کی ہدایت دے سکتا ہے؟ آیا کسان، انسان ہیں یا حیوان۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.