احتجاجی کسانوں پر لاٹھی چارج، 10 زخمی

پولیس نے چیف منسٹر منوہرلال کھٹر کی زیر قیادت آنے والے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں ایک مشاورتی اجلاس کی مخالفت کرنے والے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا ہے جس کے نتیجہ میں 10 افراد زخمی ہوگئے ۔

چندی گڑھ: ہریانہ کے ضلع کرنال میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف پولیس کی ”سفاکانہ“ کاروائی پر برہم کسانوں نے ریاست میں کئی مقامات پر شاہراہیں بند کردیں۔

بتایا گیا ہے کہ پولیس نے چیف منسٹر منوہرلال کھٹر کی زیر قیادت آنے والے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں ایک مشاورتی اجلاس کی مخالفت کرنے والے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا ہے جس کے نتیجہ میں 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

بعدازاں دن میں پنجاب کے امرتسر میں بھی کسانوں پر لاٹھی چارج کا دوسرا واقعہ پیش آیا جہاں کسان برادری تزئین نو کردہ جلیان والا باغ میموریل کے وزیراعظم مودی کے ہاتھوں افتتاح کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

کسان ہریانہ کی بڑی سڑکوں اور ہائی ویز پر کھٹیا بچھاکر بیٹھ گئے یا کھڑے رہے جس کے نتیجہ میں سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگئی۔ دہلی۔چندی گڑھ شاہراہ کا بھی راستہ روک دیا گیا تھا اور اس مصروف شاہراہ پر احتجاج کیلئے حراست میں لئے گئے 7 کسانوں کو دیر رات رہا کرنے کے بعد ہی ٹریفک بحال ہوئی۔

تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ کسان بڑے بڑے گروپوں کی شکل میں اپنی کھٹیا بچھاکر بیٹھے رہے یا کھڑے رہے اور کم ازکم 3 کیلو میٹر تک کاروں، بسوں اور ٹرکس کو جام دکھایا گیا ہے۔ دیگر تصاویر میں 2 پولیس جوانوں کو ایک شدید طور پر زخمی شخص کے ساتھ الجھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

اس شخص کی شرٹ اور بایاں پیر خون آلود تھا نیز اس کے سر پر خون آلود پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ایک تیسرے ویڈیو میں ہائی وے پر انسداد فساد پولیس کے ایک بڑے دستہ کو تعینات دیکھا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق پولیس لاٹھی چارج میں کم ازکم 10 کسان زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران ہریانہ کے ایک ضلعی عہدیدار کا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں پولیس کو یہہدایت دیتے ہوئے سنا گیا کہ کسانوں کے سر پھوڑ دو۔ یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس پر زبردست تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.