اسلام آباد کے مدرسہ میں لہرایا گیا طالبان کا پرچم، کیس درج

مشہور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز‘ ان کے مدد گاروں اور جامعہ کی طالبات کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون (اے ٹی اے) اور تعزیرات پاکستان (پاکستان پینل کوڈ /پی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا گیا۔

اسلام آباد: پاکستان پولیس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک دینی مدرسہ کی چھت پر افغان طالبان کے پرچم لہرائے جانے پر ایک ممتاز عالم دین اور کئی دیگر افراد پر خلاف کیس درج کرلیا۔

افغان طالبان کے سفید پرچم لڑکیوں کے دینی مدرسہ جامعہ حفصہ کی چھت پر ہفتہ کے دن دکھائی دیتے تھے۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے یہ اطلاع دی۔

اطلاع ملتے ہی ضلع نظم ونسق نے پولیس دستہ بشمول ردالفساد یونٹ بھیجا جس نے دینی مدرسہ کو گھیر لیا۔

مشہور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز‘ ان کے مدد گاروں اور جامعہ کی طالبات کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون (اے ٹی اے) اور تعزیرات پاکستان (پاکستان پینل کوڈ /پی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا گیا۔

دارالحکومت انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے جھنڈے ہٹانے کیلئے پہونچی پولیس کو کھلے عام دھمکایا۔ انہوں نے افغان طالبان کا نام لے کر کہا کہ اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

جامعہ کی طالبات اور ٹیچرس نے بھی پولیس کو چیلنج کیا جس سے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔

ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا کہ ایریا کلئیر کردیا گیا‘ پرچم ہٹا دئیے گئے‘ کیس درج کرلیا گیا۔

21اپریل کے بعد سے جامعہ حفصہ پر طالبان پرچم لہرائے جانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ سابق میں جامعہ کی چھت پر کم از کم 5سفید پرچم لہراتے دیکھے گئے تھے۔ کوئی بھی پرچم لہرانا جرم نہیں ہے۔ کارروائی کیلئے قانون موجود نہیں ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مولانا نے اس قانونی کمزوری کا فائدہ اٹھایا ہے۔ مولانا عبدالعزیز 2007کے ملٹری آپریشن میں محفوظ رہے تھے۔

وہ مقامی قوانین کی اکثر خلاف ورزی کرتے ہیں اور بچ جاتے ہیں کیونکہ حکومت کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے۔

آئی اے این ایس کے بموجب جامعہ حفصہ‘ لال مسجد سے متصل ہے۔ پولیس کے پہونچتے ہی کئی طالبات جو سیاہ برقعہ میں تھیں جامعہ کی چھت پر چڑھ گئیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.