اندور چوڑی فروش واقعہ‘ احتجاجی مجلسی لیڈر کے پاکستان سے روابط؟

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گرفتار شخص التمش خان آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے جڑا ہے۔

بھوپال: اندور میں چوڑی فروش کے واقعہ کے بعد احتجاج کے سلسلہ میں گرفتار ایک شخص کے خلاف حکومت ِ مدھیہ پردیش کو ثبوت ملا ہے کہ اس شخص کے سوشیل میڈیا کے ذریعہ پاکستان سے روابط ہیں۔ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے پیر کے دن یہ بات بتائی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گرفتار شخص التمش خان آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے جڑا ہے۔

پولیس نے سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز میسیج پوسٹ کرنے کے الزام میں 4 افراد بشمول التمش خان کو ہفتہ کے دن گرفتار کیا تھا۔

ان پر اندور شہر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی سازش کا الزام ہے۔ چوڑی فروش واقعہ کے بعد اندور کے ایک پولیس اسٹیشن کے سامنے مظاہرہ کرنے والے التمش خان کے روابط واٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعہ پاکستان سے پائے گئے ہیں۔

اس کے پاس قابل ِ اعتراض مواد (ویڈیوز اور آڈیوز) ملا ہے جسے وہ دھیرے دھیرے جاری کرنا چاہتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد التمش خان‘ محمد عمران انصاری‘ جاوید خان اور سید عرفان علی 20 تا 30 برس کی عمر کے ہیں اور یہ کٹر آئیڈیالوجی کے زیراثر ہیں۔

اندور کے گووند نگر میں 22 اگست کو ایک چوڑی فروش تسلیم علی کو ماراپیٹا گیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی مسلم شناخت چھپائی تھی۔

اس پر حملہ کے سلسلہ میں 4 افراد گرفتار کئے گئے۔ تسلیم علی کو بعدازاں اس الزام میں گرفتار کرلیا گیا کہ اس نے ایک کمسن لڑکی کو نامناسب انداز میں چھوا تھا۔ اس پر جعلسازی کا بھی الزام لگا۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.