ایک بلین ٹیکے اور مودی حکومت کا جشن!!

سب کچھ جاننے کے باوجود اس کارنامہ کا کریڈیٹ لینا اور باجہ بجانا ان کی مجبوری ہے کیونکہ ان کی پارٹی، ٹی آر پی کے دم پر چلتی ہے۔ خواہ جھوٹ اور کذب بیانی سے ہی ٹی آر پی کیوں نہ ملتی ہو؟

حیدرآباد: ہندوستان نے کوویڈ ٹیکہ اندازی کے معاملہ میں دو دن قبل یعنی 21 اکتوبر کو ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیا۔ اسے ورلڈ ریکارڈ تو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ دیگر معاملات کی طرح اس معاملہ میں بھی چین ہم سے دو قدم آگے ہے۔ یعنی وہاں جون میں ہی 100 کروڑ ٹیکے دینے کا نشانہ پورا کرلیا گیا تھا۔

ملک میں کورونا وائرس کی وباء نے دو مرتبہ ہلاکت خیز تباہی مچائی۔ اس تباہی نے جہاں لاکھوں لوگوں کی جان لی، وہیں کروڑوں کو بے روزگار کرکے چھوڑا۔ حکومت کے غیرمنظم لاک ڈاؤن نے غریبوں کی کمر اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالی۔ مودی حکومت پیکیجس پر پیکیجس کا اعلان کرتی رہی لیکن ان مالیاتی پیکیجس کے تحت رقومات کہاں کہاں خرچ کی گئیں، اس کا حساب پی ایم کیئر فنڈ کی طرح کوئی بھی نہیں جانتا۔

کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی کے دوران گذرے وقت کو ملک کے انتہائی نازک دور سے تعبیر کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ اس نازک ترین دور میں سب سے زیادہ مصروف برادری جو تھی وہ ڈاکٹرس، نرسس، سرکاری اور خانگی دواخانوں کا دیگر اسٹاف اور سائنسداں تھے جنہوں نے انسانیت کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ملک کو کورونا وائرس کے شکنجے سے باہر نکالنے میں سب سے بڑا رول ادا کرنے والوں میں ان کا شمار ہوتا ہے لیکن کیا کیجئے گا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو ہمیشہ کی طرح یہاں بھی کریڈیٹ لینے کی جلدی تھی اور جیسے ہی 100 کروڑ ٹیکوں کا نشانہ مکمل ہوا، ان کی حکومت نے جشن منانا شروع کردیا۔

ہر جگہ ان کی تصاویر، ویڈیوز گشت کرنے لگے۔ ٹیلی ویژن، سوشیل میڈیا اور اخبارات میں صرف نریندر مودی کی تصاویر شائع کی گئیں کیونکہ وہ نشانہ کی تکمیل کے موقع پر ایک دواخانہ کو پہنچ گئے تھے جہاں ہمیشہ کی طرح ایک فوٹو سیشن بھی ہوا اور سوشیل میڈیا پر ان کی تصاویر وائرل کی گئیں۔ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ کارنامہ وزیراعظم نریندر مودی نے انجام دیا ہو۔

اس کارنامہ کا سہرا صرف اور صرف طبی برادری کے سر جاتا ہے۔ اُن سائنسدانوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے رات دن محنت کرکے کوویڈ کا ویکسین ایجاد کیا۔ ان ڈاکٹرس کو اس کا کریڈٹ ملنا چاہئے جنہوں نے دن رات کورونا وائرس کے مریضوں کی خدمت کی اور سائنسدانوں سے تعاون کرتے ہوئے انہیں وقتاً فوقتاً مفید فیڈ بیک دیا تاکہ ویکسین کی تیاری میں سہولت ہوسکے۔ ویکسین بنانے والی کمپنیاں اور ان کمپنیوں کے ملازمین کی ستائش ہونی چاہئے کیونکہ وہ اس کے مستحق ہیں۔

اس کارنامہ کا سہرا ان ہزاروں لاکھوں نرسس اور وارڈ بوائز اور صفائی کرمچاریوں کے سر بھی باندھا جانا چاہئے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کورونا وائرس کے مریضوں کی دن رات خدمت کی۔ لاک ڈاؤن کے دوران صفائی کرمچاریوں نے گلی محلوں، دواخانوں، ہیلتھ سنٹرس اور دیگر طبی مراکز پر صفائی کی برقراری کو یقینی بنایا۔ اس لئے یہ سنگ میل طے کرنے کا سہرا بھی انہیں ہی ملنا چاہئے۔

کیا وزیراعظم نریندر مودی یہ سب نہیں جانتے؟ وہ جانتے ہیں۔ سب کچھ جاننے کے باوجود اس کارنامہ کا کریڈیٹ لینا اور باجہ بجانا ان کی مجبوری ہے کیونکہ ان کی پارٹی، ٹی آر پی کے دم پر چلتی ہے۔ خواہ جھوٹ اور کذب بیانی سے ہی ٹی آر پی کیوں نہ ملتی ہو؟

وزیراعظم نریندر مودی سائنسدانوں اور طبی برادری کی اس زبردست حصولیابی کا کریڈیٹ خود لینے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس میں بی جے پی آئی ٹی سیل اور ہم نوا میڈیا کی بدولت بڑی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو وزیراعظم نریندر مودی کو کوروناوائرس کی وجہ سے ہوئی اموات کی بھی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ دوسری لہر آنے والی ہے لیکن وہ مغربی بنگال کے انتخابات میں مصروف رہے۔ بھیڑ کو جمع کرکرکے دیدی او دیدی کے نعرے لگاتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔

نریندر مودی کے پاس وقت تھا۔ پہلی لہر اور دوسری لہر کے درمیان ان کے پاس 6 تا 8 ماہ کا وقت تھا۔ اس دوران وہ بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن انہیں صرف بنگال اسمبلی انتخابات کی فکر تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں بنگال تو نہیں ملا مگر کوویڈ کی دوسری لہر نے پورے ملک کو اپنے شکنجے میں لے لیا۔ ریاستوں پر دباؤ ڈال کر کئی کئی ہفتوں طویل دوسرا لاک ڈاؤن نافذ کرایا گیا کیونکہ مرکز نے پہلا لاک ڈاؤن اپنی جانب سے نافذ کرکے معیشت کی کمر توڑ دی تھی اور ایک بار پھر ملک گیر لاک ڈاؤن لگا کر نریندر مودی اپنے نام کی مٹی مزید پلید کرانے تیار نہیں تھے۔

دوسری لہر نے جو قیامت برپا کی تھی، اسے لوگ فراموش نہیں کرپائے ہیں۔ دواخانوں میں مریضوں کو بستر نہیں مل رہے تھے اور جنہیں بستر ملے انہیں آکسیجن نہیں ملی۔ بیرون ممالک بالخصوص خلیج کے مسلم ممالک نے دست تعاون دراز کرتے ہوئے کئی ٹن آکسیجن بھیجی۔ یہاں تک کہ اندرون ملک آکسیجن کی منتقلی کے لئے کرائیوجینک ٹرکس بھی روانہ کئے۔ گنگا سے لے کر نرمدا تک کے ساحل نعشوں سے اٹ گئے تھے۔ لوگوں کو آخری رسومات کی سہولت نہیں ملی تو ہزاروں نعشیں یوں ہی گنگا میں بہادی گئیں۔

کیا نریندر مودی کو یہ سب یاد ہے؟ ان سب کا سہرا کون لے گا؟ کوویڈ ویکسین کے سرٹیفکیٹ پر ان کی تصویر ہوتی ہے، تو کیا کورونا وائرس سے مرنے والوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر بھی مودی کی ہنستی مسکراتی تصویر چھاپی گئی ہے؟ مودی جی لوگ پوچھ رہے ہیں، ان سب کا کریڈیٹ کون لے گا؟ کون یہ سہرا اپنے سر باندھے گا؟ بتائیے مودی جی۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.