بنگلہ دیش آبادی کنٹرول میں رول ماڈل ہے: وزیر صحت

یو این ایف پی اے ، بنگلہ دیش کی رپورٹ کے مطابق ، ملک میں کل زرخیزی کی شرح (ٹی ایف آر) 1975 میں 6.3 فی پیدائش سے کم ہو کر 1994 میں 3.4 اور 2011 میں مزید 2.3 رہ گئی ہے ، جو کہ بہت مثبت پیشرفت ہے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش نے 1971 میں پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد آبادی کنٹرول میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔وزیر صحت زاہد ملک نے سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کو بتایا کہ ملک نے آبادی کنٹرول میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب وہ دنیا میں ایک رول ماڈل ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح 1967 میں 2.77 تھی جو 1996 میں کم ہو کر 2.13 فیصد رہ گئی ہے اور سال 2020 میں یہ 1.03 فیصد رہ گئی ہے۔

یو این ایف پی اے ، بنگلہ دیش کی رپورٹ کے مطابق ، ملک میں کل زرخیزی کی شرح (ٹی ایف آر) 1975 میں 6.3 فی پیدائش سے کم ہو کر 1994 میں 3.4 اور 2011 میں مزید 2.3 رہ گئی ہے ، جو کہ بہت مثبت پیشرفت ہے۔ بنگلہ دیش میں ٹی ایف آرسال 2017 میں 2.06 تھا اور حکومت کا مقصد 2021 تک ٹی ایف آر کو 2.0 تک لانا ہے۔

آبادی کنٹرول کی حکمت عملی کی کامیابی اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ مانع حمل ادویات استعمال کرنے والوں کی تعداد 1975 میں 8 فیصد سے بڑھ کر 2000 میں 54 فیصد ، 2011 میں 61.2 اور 2018 میں 63 فیصد سے زیادہ ہو گئی۔

بی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق ، حکومت نے 1975 سے ایک بہت کامیاب فیملی پلاننگ مہم چلائی تھی جس میں پرکشش نعروں اور پیغامات کے ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے لوگوں کو آبادی کنٹرول کے طریقے اپنانے کی ترغیب دی گئی تھی۔ لیکن اب بھی چیلنجز باقی ہیں کیونکہ بنگلہ دیش میں 59 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کی شادی ابھی 18 سال سے کم عمر میں کردی جاتی ہے اور 23 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 سال کی عمر سے پہلے کردی جاتی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.