تعلیمی اداروں کی کشادگی کا فیصلہ غیر دانشمندانہ

اس خطرناک وباء سے متاثررہنے کے باوجودکئی ریاستوں بشمول تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کافیصلہ کیاگیا۔

محمد عبدالرحمن

کوروناوباء کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں احتیاط اورچوکسی کے الفاظ جزولاینفک بن گئے ہیں۔ گذشتہ دوبرسوں سے ہم ان الفاظ کے ساتھ زندگی بسرکرنے پرمجبورہیں۔ کووڈ19 وباء نے عام زندگی کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا،انسان کوناقابل بیان نقصانات برداشت کرنا پڑا۔

اس خطرناک وباء سے متاثررہنے کے باوجودکئی ریاستوں بشمول تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کافیصلہ کیاگیا۔ اس موقع پر کسی کوبھی نہیں معلوم کہ اس فیصلہ کی اولیائے طلبہ کوکیاقیمت اداکرنی پڑے گی۔ اسکولس کی کشادگی بہت بڑامعاملہ ہے۔ طلباء کوہوائی جہازکے ذریعہ گھروں سے اسکولس منتقل نہیں کیاجاتابلکہ ان کوپرہجوم بسوں اورآٹوزمیں سفر کرتے ہوئے اسکول جانا پڑتاہے۔

مناسب تعدادمیں بسوں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ طلباء کوکووڈوباء سے محفوظ رکھنے کیلئے ہرممکن اقدامات کرنے پڑیں گے جونہایت ہی طویل مرحلہ ہے۔ ابھی ریاست کووڈکی دوسری لہر کے مضراثرات سے ابھرنہیں سکی ہے اورقیاس آرائیوں کابازارگرم ہے کہ تیسری لہر کاخطرہ منڈلارہاہے۔ ان حالات میں غورطلب بات یہ ہے کہ کیاہم امکانی تیسری لہر کا سامنا کرنے تیارہیں۔ مستقبل کے ہندوستانی شہریوں کو اس وباء سے محفوظ رکھنے کیلئے کیاقدم اٹھائے جارہے ہیں۔ صرف اسکولس کی کشادگی ہی کافی نہیں ہے۔

عہدیداروں کواسکولس کی کشادگی کافیصلہ لینے سے قبل نقائص سے پاک احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ کوروناکی دوسری لہر کے دوران’پازیٹیو واقعات‘میں اضافہ ہمارے لئے تلخ تجربہ رہا۔ اس دوران جلدبازی میں اسکولس کی کشادگی کافیصلہ کیاگیا۔ اس بات سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتاکہ ورچول کلاسس کا طلباء پرمنفی اثر پڑا۔ہرکوئی اسمارٹ فون سے چپکارہا۔

حکومت کی جانب سے بھی بہتر اندازمیں آن لائن کلاسس کانظم کیاگیا۔ گزشتہ دوبرسوں کے دوران اسکولس بند رہے۔ ضروری عملہ بھی اسکولس کونہیں گیا۔ چونکہ تعلیم ایک پیشہ کی شکل اختیارکرچکی ہے، کئی تعلیمی ادارے گنجائش نہ ہونے کے باوجودمختلف کورسس میں داخلہ دینے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ نتیجتاً کلاسس پرہجوم ہوگئی ہیں۔ جہاں 20بچوں کی گنجائش ہے وہاں دوگنی تعدادمیں بٹھایاجارہاہے۔ جس کا مطلب ہے طلباء کومناسب جگہ دستیاب نہیں رہے گی۔پھر سماجی فاصلہ کی برقراری صرف ہدایت اوراعلانات بن کر رہ جائیں گی۔

اب دوسری وباء کے خاتمہ کے بعد تحدیدات کی برخواستگی نے اسکولس کی کشادگی کی راہ ہموارکی ہے۔ جب طلباء اسکول آئیں گے تووائرس کے آگے بے نقاب ہوجائیں گے پھر کس طرح ان طلباء کی حفاظت کی جائے گی۔ خطرناک حدتک ہونے والے نقصان پر صرف برائے نام غوروخوص کہاں تک درست رہے گا۔ ایک ایسے دورمیں جہاں ترقی یافتہ ممالک بھی طلباء کی زندگیوں کے متعلق فکرمند ہیں۔ ہندوستان میں اس مسئلہ کوآسان سمجھاجانا نامناسب ہے۔ جہاں ماہرین کاکہنا ہے کہ تیسری لہر آہستہ آہستہ پھیلے گی مگراثرات کافی خطرناک ہوں گے، پرغورکرتے ہوئے حکومتوں کومناسب فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔

(محمد عبدالرحمن روزنامہ منصف حیدرآباد کے بیورو چیف ہیں)

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.