جرمنی سے لاپتہ طیارہ کی 35 سال بعد برازیل میں لینڈنگ؟

پھر 35 سال بعد یہی طیارہ اچانک برازیل کے شہر پورٹو الیگرو کے ایرپورٹ پر چکر کاٹنے لگتا ہے اور تھوڑی دیر بعد رن وے پر لینڈ بھی کرجاتا ہے۔ اس سے پہلے طیارہ نے نہ تو اے ٹی سی سے ربط پیدا کیا اور نہ ہی لینڈ کرنے کے لئے اجازت طلب کی تھی۔

حیدرآباد: سال 1954 کی بات ہے کہ سان ٹیاگو ایرلائنس کا ایک طیارہ مغربی جرمنی کے شہر آشین سے اڑان بھرتا ہے۔ اس کی منزل برازیل کا شہر پورٹو الیگرو ہے۔ 18 گھنٹے کا سفر ہے لیکن اڑان بھرنے کے چند ہی منٹ بعد طیارہ بحراوقیانوس پر پروازکرتے ہوئے اچانک راڈار سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اے ٹی سی سے اس کا رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور زمین سے اس کا ربط قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوجاتی ہیں۔

پھر 35 سال بعد یہی طیارہ اچانک برازیل کے شہر پورٹو الیگرو کے ایرپورٹ پر چکر کاٹنے لگتا ہے اور تھوڑی دیر بعد رن وے پر لینڈ بھی کرجاتا ہے۔ اس سے پہلے طیارہ نے نہ تو اے ٹی سی سے ربط پیدا کیا اور نہ ہی لینڈ کرنے کے لئے اجازت طلب کی تھی۔

یہ کہانی سان ٹیاگو ایئرلائنس کی پرواز 513 سے متعلق ہے جس نے اڑان بھرنے کے 35 سال بعد لینڈنگ کی تھی حالانکہ اس کا سفر صرف 18 گھنٹے کا تھا۔ کہانی کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ 92 افراد پر مشتمل ایک طیارہ جرمنی سے پرواز کرنے کے بعد غائب ہوگیا اور اچانک 35 سال بعد برازیل کی زمین پر اتر گیا۔ دنیا بھر کے اخبارات اس خبر کو چھاپتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ طیارہ 35 سال کہاں تھا؟

ٹائم ٹراویل پر یقین رکھنے والوں کا یہاں تک دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ وقت سے آگے نکل گیا تھا۔ اس دوران زمین پر 35 سال گزر گئے۔

اصل کہانی کچھ یوں ہے۔ دراصل 14 نومبر 1989 کو ایک مشہور جرمن اخبار کے رپورٹر نے خبر شائع کی تھی کہ 4 ستمبر 1954 کو اڑان بھرنے والے طیارہ نے برازیل میں لینڈنگ کی ہے۔ طیارہ میں 92 مسافرین اور ارکان عملہ کے ڈھانچے ہیں جو اپنی اپنی سیٹ پر سیٹ بیلٹ سے بندھے ہیں۔ مزید دعویٰ یہ کیا گیا کہ یہ وہی طیارہ ہے جو اچانک غائب ہوگیا تھا۔

خبر میں بتایا گیا کہ طیارہ 35 سال قبل مغربی جرمنی کے شہر آشین سے اڑان بھرا تھا اور لاپتہ ہوگیا تھا۔ طیارے میں 88 مسافر اور عملے کے 4 ارکان سوار تھے۔ ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی جہاز کا بحر اوقیانوس پر پرواز کے دوران رابطہ ٹوٹ گیا۔

اخبار کی خبر کے مطابق طیارے کی لینڈنگ سے قبل نہ تو ایئر ٹریفک کنٹرول سے اجازت لی گئی اور نہ ہی اے ٹی سی کو طیارے کی لینڈنگ کا علم ہوا۔ اس کے بعد ایئر پورٹ کی سیکورٹی ٹیم طیارے تک پہنچ گئی۔ جب سکیورٹی ٹیم طیارے کے اندر پہنچی تو سب ڈر کے مارے کانپ گئے کیونکہ پورے جہاز کے اندر انسانی ڈھانچے بھرے ہوئے تھے۔ ہر ڈھانچہ اپنی سیٹ پر تھا۔ یہاں تک کہ ہوائی جہاز کے پائلٹ کا ڈھانچہ بھی کاک پٹ میں موجود تھا اور اس کے ہاتھ کنٹرولس پر تھے اور ہوائی جہاز کا انجن چل رہا تھا۔

گھبراہٹ اور خوفزدگی کے عالم میں سیکورٹی عملہ جہاز سے اتر گیا اور برازیل کی حکومت کو اطلاع دی۔

اس کہانی کی حقیقت کیا ہے؟

ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جرمن اخبار میں شائع ہونے والی یہ خبر مکمل طور پر غلط ہے۔ یہ خبر ایروین فشر نامی رپورٹر نے شائع کی تھی۔ اس فرضی خبر کی چھان بین کے بغیر ہی اُس دور میں دنیا کے کئی اخبارات نے اسے شائع کیا تھا جس کے بعد لوگوں میں بحث چھڑگئی تھی۔ کچھ لوگوں نے اس طیارے کو بھوت کہنا شروع کردیا تھا جبکہ کچھ نے کہا کہ یہ ٹائم ٹراویل کے ذریعہ ممکن ہے۔ ٹائم ٹراویل پر یقین رکھنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ طیارہ وقت کے بھنور میں پھنس گیا تھا جبکہ سچ یہ ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تھا۔

تاہم فکشن نگاروں کو ایک ایسا موضوع ہاتھ آگیا تھا جس پر کئی سالوں تک دنیا بھر کے مختلف زبانوں کے اخبار میں اس پر خبریں شائع ہوتی رہی تھیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.