حکومت کو بھی گمراہ کرنے سے وقف بورڈ حکام پس و پیش نہیں کرتے

مثال کے طور پر بورڈ نے 22 جون 2021 کو منعقدہ اپنے گذشتہ اجلاس میں ڈپٹی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر ڈاکٹر محمد شفیع اللہ کی خدمات کو ان کے اپنے محکمہ کو واپس لوٹادینے کی ایک قرار داد منظور کی تھی۔ اس میں کہا گیا کہ سرکاری حکم نامہ کی رو سے ڈپٹی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر پر غور وخوض کیا گیا اور متفقہ طور پر یہ طئے کیا گیاکہ ڈپٹی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کا عہدہ، وقف بورڈ کیلئے نیا ہے۔

نمائندہ خصوصی

یوں تو وقف بورڈکے حکام آئے دن عوام کو گمراہ کرتے ہی رہتے ہیں لیکن انہیں اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کی خاطر حکومت کو تک گمراہ کرنے میں خوف و جھجھک محسوس نہیں ہوتا۔ وہ مختلف مواقع اور مختلف پلیٹ فارمس پر کسی خاص معاملہ پر اپنے الفاظ اور موقف کو باآسانی تبدیل کردینے میں عار محسوس نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر بورڈ نے 22 جون 2021 کو منعقدہ اپنے گذشتہ اجلاس میں ڈپٹی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر ڈاکٹر محمد شفیع اللہ کی خدمات کو ان کے اپنے محکمہ کو واپس لوٹادینے کی ایک قرار داد منظور کی تھی۔ اس میں کہا گیا کہ سرکاری حکم نامہ کی رو سے ڈپٹی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر پر غور وخوض کیا گیا اور متفقہ طور پر یہ طئے کیا گیاکہ ڈپٹی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کا عہدہ، وقف بورڈ کیلئے نیا ہے۔

اس عہدہ کا ذکر نہ تو منظورہ کیڈر اسٹرنتھ میں ہے اور نہ ہی وقف ایکٹ 1995 میں ہے اور اس کے تحت درج قواعد میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ لہٰذایہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں وقف بورڈ سے ان کے اپنے محکمہ کو واپس بھیج دیا جائے۔

اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ ”حکومت سے یہ گذارش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 23 کے تحت کل وقتی سی ای او کے تقرر کیلئے ڈپٹی سکریٹری کے رینک سے بالاتر عہدیداروں کا پیانل بھیجا جائے لیکن سی ای او نے سکریٹری اقلیتی بہبود کے نام اپنی دفتری مراسلت میں صرف ڈپٹی سی ای او کی بحالی سے متعلق قرارداد کے صرف ایک ہی حصہ سے مطلع کیا اور ایک باقاعدہ سی ای او کے تقرر کیلئے عہدیداروں کا پیانل بھیجنے وقف بورڈ کی گذارش پر خاموشی اختیار کی۔

بورڈ نے حکومت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کے پاس کیڈر کی منظورہ تعداد ہے جس میں ڈپٹی سی ای او کے عہدہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے نہ صرف وقف بورڈ کیلئے بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت آنے والے کسی بھی اقلیتی ادارہ کیلئے کیڈر کی تعداد کو ہنوز منظوری نہیں دی ہے۔

وقف بورڈ حکام نے اس بات کو فراموش کردیا ہے کہ وہ کیڈر تعداد کی منظوری کیلئے محکمہ اقلیتی امور کے ساتھ مسلسل مراسلت کرتے رہے ہیں۔ان مراسلتوں میں خود بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ وقف بورڈ کے آغاز سے ہی کیڈر کی تعداد منظورہ نہیں ہے۔

متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد 59 فیصد عملہ آندھرا پردیش کیلئے مختص کیا گیا تھا اور تقسیم ریاست کے بعد ملازمین کی ایک بڑی تعداد سبکدوش بھی ہوگئی جبکہ کے سی آر حکومت نے اضلاع کی تعداد کو تقریباً چارگنا بڑھادیا۔ وقف بورڈ کی جانب سے اس تناظر میں حکومت سے یہ گذارش کی جاتی رہی ہے کہ مختلف سطحوں پر 314 اسٹاف ارکان کی تعداد کو منظوری دی جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ نے 314 اسٹاف کی تعداد کے ساتھ کیڈر کو منظوری دینے کی بار ہا اپیل بھی کی تھی۔ وقف بورڈ کے حکام شائد یہ بھول گئے کہ کیڈر اسٹرنتھ کی فائیل ہنوز محکمہ اقلیتی بہبود میں زیر گشت ہے۔

وقف بورڈ کے حکام کی اس چال بازی کو سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود احمد ندیم نے شائد بھانپ لیا۔اسی لئے انہوں نے وقف بورڈ کے سی ای اوکے مراسلہ پر فوری کارروائی کرنے کی بجائے وقف بورڈ سے استفسارات کرتے جارہے ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے سی ای او کے مراسلہ کا جواب دیتے ہوئے انہیں وقف بورڈ کی متعلقہ قرارداد کی نقل طلب کی اور پھر بعد میں بورڈ کے کیڈر اسٹرنتھ کی تفصیلات بھی پیش کرنے کی خواہش کی۔ فی الحال وقف بورڈ کے پاس صرف 67 باقاعدہ ملازمین ہیں جن میں سے زیادہ تر یا تو درجہ چہارم سے تعلق رکھتے ہیں یا کلرک کے درجہ کے ہیں۔

بورڈ نے مجموعی طور پریکمشت اساس پر 47 ملازمین کا تقریر کیا ہے اور یکمشت اساس پر 8 ریٹائرڈ عہدیداروں کی بھی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ یومیہ اجرت پر 55 ملازمین کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عارضی ملازمین کی تعداد باقاعدہ ملازمین کی تعداد سے دگنی ہے۔

وقف بورڈ نے تقرر کے مناسب قواعد کو ملحوظ رکھے بغیر 110 ملازمین کا تقررکرلیا ہے۔ حالانکہ خود حکومت اس سے کماحقہ واقف نہیں ہے۔ بورڈ نے یہ تقررات اعلامیہ جاری کئے بغیر ہی کرلئے ہیں اور تقرر کیلئے کوئی اہلیتی معیار کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے، مشاہرہ کے تعین میں بھی یکسانیت نہیں ہے۔ جب آرٹی آئی ایکٹ کے تحت سوال کیا گیا تو بورڈ نے کہا کہ تقرر کیلئے اہلیتی معیار وقف ضوابط 1963 کے ضابطہ 17 میں صراحت کردہ طریقہئ کار کے مطابق ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وقف ضوابط 1963 کو وقف ایکٹ 1955 کی مناسبت سے مدون کیا گیا تھا جبکہ نئے ایکٹ کو 1995 میں لاگو کیا گیا اور اس میں مزید ترمیم 2013 میں کی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وقف ضوابط 1963 ایک نیا قانون بننے کے بعد اپنی قانونی حیثیت کھوچکے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.