حیدرآباد میں ٹماٹر کی قیمت میں اضافہ۔ کھائے تو کھائیں کیا؟ عوام کا سوال

ٹماٹر جس کی قیمت شہر حیدرآباد میں کم تھی اور وہ ہر کسی دسترس میں شامل تھا لیکن یہی ٹماٹر اب لوگوں کو آنسو رلا رہا ہے۔ اس کی بڑھتی قیمت سے لوگ نہ صرف پریشان ہیں بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہائے رے یہ مہنگائی!

حیدرآباد: سر پر تاج اور لال نظر آنے والا ٹماٹر اب صرف دور ہی سے بھلا معلوم ہورہا ہے۔ کبھی یہ سبزی منڈی کی شان ہوا کرتا تھا۔

پکوان کی لازمی شئے سمجھے جانے والے ٹماٹر کی قیمت میں حالیہ چند دنوں میں ہوئے بتدریج اضافہ سے عام آدمی کا سر چکرانے لگا ہے اور ایک کیلو ٹماٹر کی خریداری نہ صرف اس کے جیب پر بھاری بوجھ بن گئی ہے بلکہ اس کے ماہانہ بجٹ پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔

بازاروں اور ٹھیلہ بنڈیوں پر کبھی ٹماٹر سجائے جاتے تھے اور خریداروں کا ہجوم ان بنڈیوں اور بازاروں میں ٹماٹر کی خریداری کرتا ہوا دیکھا جاتا تھا۔ ٹماٹر کی فروخت کے لئے انہیں فروخت کرنے والے خریداروں کو آوازیں لگارہے ہیں۔ ٹماٹر کی اضافی قیمت نے تو اب پہلے کے تمام ریکارڈس توڑ دیئے۔

عوام کا ماننا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں آئے بھاری اچھال نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کھائے تو کھائیں کیا؟

ٹماٹر جس کی قیمت شہر حیدرآباد میں کم تھی اور وہ ہر کسی دسترس میں شامل تھا لیکن یہی ٹماٹر اب لوگوں کو آنسو رلا رہا ہے۔ اس کی بڑھتی قیمت سے لوگ نہ صرف پریشان ہیں بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہائے رے یہ مہنگائی!

ٹماٹر کی قیمتوں میں شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر مقامات پر کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کی قیمت میں 3 گنا سے بھی زائد اضافہ ہوگیا ہے۔ ٹما ٹر کی قیمت اب بڑھ کر 100 روپئے فی کیلو ہوگئی ہے۔

گذشتہ ماہ سے ٹماٹر کے ساتھ ساتھ دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ درج کیاجارہا ہے۔بارش کے سبب کئی سبزیوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا جس کے نتیجہ میں شہر کی اہم مارکٹس کو اس کی منتقلی میں کمی ہوگئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

شہرحیدرآباد کو قریبی اضلاع سے سبزیاں لائی جاتی ہیں تاہم جاریہ سال ہوئی غیرمعمولی بارش کے نتیجہ میں سبزیوں کی فصلوں کو کافی نقصان ہوا۔ تاجرین کاکہنا ہے کہ دیگر ریاستوں جیسے کرناٹک اور دیگر علاقوں سے ٹماٹرحیدرآباد لانے کے نتیجہ میں ہی اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

شہر کو تقریبا 60فیصد ٹماٹر دیگرریاستوں سے لایاجارہا ہے اوربقیہ 40فیصدٹماٹر ہی تلنگانہ سے ریاستی دارالحکومت کو لایاجارہا ہے۔

ایسے افراد جو روزانہ اپنے گھر کو 3 تا 4 کیلو میٹر لے جایا کرتے تھے‘ اب صرف آدھا کیلو ٹماٹر پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ٹماٹر تقریباً ہر سالن کی لازمی شئے ہے اور اسے باورچی خانہ کی زینت بھی سمجھا جاتا ہے۔

ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جن کا ماننا ہے کہ حکومت کو اس خصوص میں فوری مداخلت کرنی چاہئے تاکہ ان کو راحت نصیب ہو۔

”ٹماٹر کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوگیا ہے جو ہمارے دسترس سے باہر ہے۔ اب ہم اسے زیادہ خرید نہیں رہے ہیں کیونکہ قیمتوں میں حالیہ دنوں میں کافی اضافہ ہوگیا ہے“۔ ایک 50 سالہ خاتون جو تقریباً ہر روز منڈی میر عالم میں سبزیوں کی خریداری کرتی ہے‘ نے یہ بات بتائی۔

اس خاتون کا ماننا ہے کہ اس اضافہ نے گھریلو خواتین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور گھر کا بجٹ دگنا ہوگیا ہے۔ اس اضافہ کا اثر دیگر سبزیوں پر بھی پڑا ہے اور گھریلو خواتین کو اب بجٹ بنانے میں دن میں تارے نظر آرہے ہیں۔

ایک تاجر کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے جس سے سبزی مارکٹس میں مال بھی کم آرہا ہے کیونکہ زیادہ دنوں تک ٹماٹر کو رکھنے سے اس کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور اس کی خریداری کے لئے جو رقم خرچ کی گئی اس کا نکلنا بھی دشوار ہورہا ہے۔ اسی لئے کم مقدار میں ٹماٹر کو بازار میں لایا جارہا ہے۔

سبزی مارکٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناخوشگوار موسم کے سبب حیدرآباد کے علاوہ دیگر مقامات میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گھریلو خواتین نے کہا کہ آسمان کو چھوتی قیمت نے ان کو کم ٹماٹرخریدنے پر مجبور کردیا ہے۔اس کے بجائے وہ ایسے سالن کی تیاری کر رہی ہے جس میں ٹماٹر کا استعمال نہیں ہوتا یا پھر کم ہوتا ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.