حیدرآبادی نیوز پیپر ہاکر لڑکیاں کام چوروں کے لئے مثال

ان کی صبح کی شروعات صبح پانچ بجے ہوتی ہے اور تقریبا ساڑھے سات بجے صبح ان کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ان کے والد رام داس پیپر ایجنٹ ہیں۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے علاقہ بورابنڈہ میں رہنے والی دوسگی بہنوں پرمیلااورپراویترانے پیپر بوائے کی اصطلاح کو بدل کررکھ دیا ہے کیونکہ یہ دونوں لڑکیاں روزانہ ایکٹیواگاڑی پر گھروں پر اخبار ڈالنے کاکام کرتی ہیں۔

ان کی صبح کی شروعات صبح پانچ بجے ہوتی ہے اور تقریبا ساڑھے سات بجے صبح ان کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ان کے والد رام داس پیپر ایجنٹ ہیں۔وہ محبوب نگر ضلع کے متوطن ہیں تاہم وہ شہرحیدرآبادمیں 20سال سے مقیم ہیں۔ان کو اپنی دونوں بیٹیوں پر فخر ہے۔

رام داس کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیپر بوائے کے طورپر کام کا آغازکیاتھا۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پیپر بوائے ہاکر کاکام کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ا ن کی بیٹیوں کو اتوار کو وہ اپنے ساتھ رکھاکرتے تھے۔

اسی دوران کورونا اور پھر لاک ڈاون ہوگیا۔ ان میں اس کام کی سمجھ بتدریج آگئی اور انہوں نے خود یہ کام کرنے کا فیصلہ کیاکیونکہ پیپر بوائے کا کام کرنے والے لڑکے کورونا کی وجہ سے اس کام کیلئے آگے نہیں آرہے تھے۔

ایک لڑکی دسویں اور دوسری لڑکی انٹرمیڈیٹ میں تعلیم حاصل کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان لڑکیوں کا کام ختم ہونے کے بعد ان کو وہ اسکول اور کالج چھوڑتے ہیں۔ ان کی لڑکیوں کو ہاکر کاکام کرتے ہوئے دیکھ کر تمام افراد حیرت زدہ ہیں۔تمام افراد ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

رام داس نے کہا کہ ان کی لڑکیاں نہ صرف ہاکر کا کام کرتی ہیں بلکہ پیپر بلز کی تیاری بھی کرتی ہیں۔پرمیلاانٹرسال اول میں زیرتعلیم ہے جبکہ ان کی بہن دسویں جماعت کی تعلیم حاصل کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ پانچویں جماعت میں تھی تو ان کے والد کے پاس سائیکل تھی جس پر وہ اخبارات رکھ کر گھروں میں اخبار ڈالنے کاکام کرتے تھے اور ساتھ ہی سائیکل پر سامنے وہ بیٹھتی تھی۔یہ لڑکیاں تمام کے لئے ایک جذبہ اور مثال بن گئی ہیں۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.