خواتین کمیشن کی طرز پر مرد کمیشن بھی تشکیل دیا جائے: چورسیا

ملک کا دستور مردوں اور عورتوں کو مساوات کا بھرپور حق دیتا ہے۔ پھر صرف قومی خواتین کمیشن، ریاستی خواتین کمیشن، خواتین وزارت، خواتین ہیلپ لائن، خواتین ہیلپ ڈیسک اور خواتین جرائم شاخ ہی کیوں ہیں؟

اجمیر: گزارا بھتہ البم کے رائٹر، ہدایت کار اور تخلیق کار اجمیر کے ہنی چورسیا نے کہا ہے کہ ملک میں متاثرہ اور مظلوم مردوں کے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر خواتین کمیشن کی طرز پر مردوں کے لیے بھی مرد کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے۔

چورسیا نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ملک کا دستور مردوں اور عورتوں کو مساوات کا بھرپور حق دیتا ہے۔ پھر صرف قومی خواتین کمیشن، ریاستی خواتین کمیشن، خواتین وزارت، خواتین ہیلپ لائن، خواتین ہیلپ ڈیسک اور خواتین جرائم شاخ ہی کیوں ہیں؟ مردوں کے لیے کوئی کمیشن کیوں نہیں۔ انہوں نے نیشنل ریکارڈ بیورو کے حوالے سے کہا کہ مردوں کے لیے کوئی کمیشن اور وزارت نہ ہونے کے سبب انصاف نہیں مل پاتا ہے اور جنسی تفریق قانون کے ناجائز استعمال کے سبب ملک میں ہر سال 90 ہزار سے زائد مرد خودکشی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزارا بھتہ کے نام پر مردوں کو قصوروار گردانتے ہوئے خواتین کو خطیر رقم دلائی جارہی ہے۔ انہیں نااہل، لاچارو بے بس بناکر خود کفیل ہندستان کو کمزور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعہ ملک کی عدالتوں سے بھی گزارش کی کہ ملک میں متاثرہ مردوں کے معاملے بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں کیوںکہ ان کا جسمانی، دماغی اور معاشی استحصال تیزی سے ہورہا ہے۔ جہاں ضرورت پڑے عدالتیں جھوٹے معاملے درج کرانے والی خواتین کو بھی سزا دیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے البم کے ذریعہ ان باتوں کا ہی پیغام دیا گیا ہے جس میں اجمیر کے اداکار نانو دوا، دہلی کی ماڈل اداکارہ پریہ چھابڑا، سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل ڈاکٹراے پی سنگھ اورسکا اور دیگر فنکار نظرآرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیوالی کے موقع پر گزارا بھتہ کو ریلیز کیا جاچکا ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.