سی اے اے مخالف تقریر پر ڈاکٹر کفیل کو راحت

جسٹس گوتم چودھری کے بنچ نے ساری فوجداری کاروائی کو کالعدم قرار دینے کاحکم صادر کیا جو ان کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر پر شروع کی گئی تھی۔

نئی دہلی : ڈاکٹر کفیل خان کو بڑی راحت پہنچاتے ہوئے الہ آباد ہائیکورٹ نے آج دسمبر 2019 کے دوران علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک احتجاجی جلسہ کے دوران سی اے اے اور این آر سی کے بارے میں ان کی تقریر پر ان کے خلاف ایف آئی آر کی بنیا د پر چلائی جانے والی ساری فوجداری کاروائی کو کالعدم قرار دیا۔

جسٹس گوتم چودھری کے بنچ نے ساری فوجداری کاروائی کو کالعدم قرار دینے کاحکم صادر کیا جو ان کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر پر شروع کی گئی تھی۔

علاوہ ازیں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے احکام ادراک کو بھی کالعدم قرار دیاگیا۔ اس معاملہ میں حکومت اترپردیش کی جانب سے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف قانون قومی سلامتی کااستعمال بھی کیاگیاتھا۔

تاہم گذشتہ سال الہ آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر خان کی قانون قومی سلامتی کے تحت قید کو بھی یہ کہتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا کہ ان کی تقریر دراصل قومی یکجہتی کے لیے ایک اپیل ہے۔

الہ آباد ہائیکورٹ نے سواراج ٹھاکرے بمقابل حکومت جھارکھنڈ و دیگر 2008‘سی آر آئی‘ آئی جے 3780 کے کیس میں جھارکھنڈ ہائیکورٹ کی رولنگ اور سرفراز شیخ بمقابل حکومت مدھیہ پردیش کیس میں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کی رولنگ کاتذکرہ کیا اور کہا ”قانون تعزیرات ہند کے تحت ادراک جرم سے پہلے‘ مرکزی حکومت یار یاستی حکومت یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے قبل از وقت قانونی کاروائی کی منظوری حاصل نہیں کی گئی اور مجسٹریٹ نے احکام ادراک جاری کرتے وقت ضروری دفعات پر مناسب عمل نہیں کیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.