شاہ رخ کے بعد اب عامر خان بی جے پی کے نشانے پر؟

لوگ کچھ اس طرح ردعمل ظاہر کررہے ہیں کہ یہ اشتہار خود عامر خان نے پروڈیوس کیا ہو۔ اگرچہ یہ اشتہار ٹائرس بنانے والی ایک کمپنی کا ہے تاہم تشہیری ایجنسی اور کمپنی سے زیادہ لوگ ٹویٹر اور فیس بک پر عامر خان کو نشانہ بنارہے ہیں اور طرح طرح کے میمز شیئر کررہے ہیں۔

حیدرآباد: بی جے پی کے لیڈر اننت ہیگڈے معمولی باتوں پر تنازعات کھڑے کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ انہیں جنوبی ہند کا سنگیت سوم کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کیونکہ سنگیت سوم بھی بی جے پی کے ایسے ہی لیڈر ہیں جو معمولی باتوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ تاج محل پر چھڑی سیاست کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ سنگیت سوم نے ہی اسے شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیسا اتہاس، کہاں کا اتہاس یعنی کیسی تاریخ اور کہاں کی تاریخ۔

انہوں نے یہ بات اس وقت کی تھی جب اترپردیش میں حکومت سنبھالتے ہی چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے شہرہ آفاق محبت کی نشانی اور دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک تاج محل کو اترپردیش حکومت کے سیاحتی کتابچے سے خارج کردیا تھا۔ جب اس بات پر واویلا ہوا تھا تو میرٹھ کے حلقہ سردھانا کے رکن اسمبلی سنگیت سوم نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل ہندوستان کی تاریخ میں ایک بدنما داغ کے مانند ہے۔

سنگیت سوم کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاج محل بنانے والے نے اپنے باپ کو قید کردیا تھا اور اس نے اترپردیش سے ہندوؤں کے صفائے کا کام کیا تھا۔ سب یہ جانتے ہیں کہ سنگیت سوم جو کہہ رہے تھے وہ فرضی باتیں ہیں اور ان فرضی باتوں سے تاریخ نہیں بدل جاتی۔ یہ اکتوبر 2017 کی بات ہے۔

یہ بات جگ ظاہر ہے کہ بی جے پی کی سیاست مذہب پر گھومتی ہے۔ اس لئے اس پارٹی کے قائدین کو اس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ ہر مسئلے اور ہر بات میں سے ایسا نکتہ اچک لیا جائے جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوتی ہو۔ کچھ ایسا بیان دیا جائے جس سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوریاں بڑھتی ہوں اور ہندوؤں میں یہ احساس قائم رہے کہ مسلمانوں نے اس ملک پر 1200 سال تک حکومت کی ہے اور ہندوؤں کو غلام بناکر رکھا اور اب اگر ہندو اکٹھے نہ ہوں تو ہندوستان میں دوبارہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہوجائے گی۔

اسی چیز کو قائم و دائم رکھنے کے لئے بی جے پی قائدین ہر دن ایک نیا شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں۔ ایسا 2014 سے پہلے نہیں ہوتا تھا۔ ملک میں جب سے مودی نے حکومت سنبھالی ہے انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی بنی رہے اور ان کی حکومت من مانے اقدامات کرتی رہے۔

تازہ واقعہ عامر خان کے ایک اشتہار کا ہے۔ اس اشتہار پر سوشیل میڈیا میں عامر خان کو کچھ اس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے کہ خود عامر نے یہ اشتہار پروڈیوس کیا ہو۔ حالانکہ یہ اشتہار پہئے بنانے والی ایک کمپنی CEAT کا ہے جس میں عامر خان نے اداکاری کی ہے۔ وہ اشتہار میں صرف یہ کہتے ہیں کہ دیوالی میں سڑکوں پر پٹاخے نہ جلائیں۔ سڑکیں، کاروں کے لئے ہیں۔ بس بی جے پی کے زہریلے اور فرقہ پرست قائدین کو ایک نکتہ ہاتھ آگیا اور کرناٹک کے ریاستی وزیر اننت ہیگڈے نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ہندو مسلم مسئلہ بنادیا۔

بس پھر کیا تھا۔ سوشیل میڈیا کے دو اہم پلیٹ فارمس فیس بک اور ٹویٹر پر بھکتوں کی ٹولیاں سرگرم ہوگئیں اور انہوں نے سڑکوں پر پٹاخے جلانے کا تقابل سڑکوں پر نماز پڑھنے سے شروع کردیا۔ ایک کہتا ہے عامر کو چاہئے کہ وہ سڑکوں پر نماز سے متعلق بھی ایک اشتہار بنائے۔ دوسرا پوچھتا ہے کہ عامر اب تک ہندوستان میں ہے۔ وہ تو کہہ رہا تھا کہ ملک میں عدم رواداری بڑھ گئی ہے اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ بیرون ملک منتقل ہونے کا سوچ رہا ہے۔ تیسرا بھکت کہتا ہے عامر خان ہندو مخالف اداکار ہے اور سیئٹ کمپنی نے یہ جانتے ہوئے بھی اسے اشتہار کے لئے سائن کیا۔ ٹویٹر پر اس کمپنی اور عامر خان کے خلاف ٹویٹس کی باڑھ آئی ہوئی ہے اور اندھ بھکت، لوگوں کو یہ یاد دلا رہے ہیں کہ نہ صرف سیئٹ کمپنی بلکہ مانیور اور ٹاٹا کلق جیسی کمپنیاں بھی ہندو مخالف ہیں۔ وہ لوگوں سے ان کمپنیوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔   

یہ ایک ٹرینڈ بن گیا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں سکون اور شانتی ہو۔ اس کے لیڈر کسی نہ کسی بہانے ملک میں فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے کرناٹک کے ہی ایک بی جے پی لیڈر تیجسوی سوریہ نے فیاب انڈیا کے ایک اشتہار کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ اشتہار دیوالی کی شاپنگ سے متعلق تھا۔ اس اشتہار میں اردو الفاظ جشن اور رواج کا استعمال کیا گیا تھا۔ تیجسوی سوریہ کو اس میں بھی فرقہ واریت نظر آئی اور انہوں نے ٹویٹ کردیا کہ فیاب انڈیا ہندوؤں کے تہواروں کا ابراہمائیزیشن کررہا ہے۔ اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ اس ٹویٹ کے ساتھ ہی بی جے پی کا آئی ٹی سیل حرکت میں آگیا اور بھکتوں نے بائیکاٹ فیاب انڈیا مہم شروع کردی۔ آخرکار فیاب انڈیا کو یہ اشتہار ہٹانا پڑا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جشن اور رواج جیسے الفاظ کے استعمال میں بی جے پی کو کیا پریشانی لاحق ہے؟ اردو زبان ملک کے گوشے گوشے میں بولی جاتی ہے اور اردو الفاظ کے بغیر بالی ووڈ کی فلموں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ٹی وی سیریلوں میں دھڑلے سے اردو الفاظ کا استعمال ہوتا ہے اور اسے ہندی کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر انہیں اردو سے اتنی نفرت ہے تو اپنی بات چیت اور روزمرہ امور میں اردو کے الفاظ کا استعمال نہ کریں اور اس کے بجائے ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کا استعمال کریں پھر دیکھیں فلموں اور ٹی وی سیریلوں کی ٹی آر پی کیا بولتی ہے؟

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.