طالبان اور شمالی اتحاد کا ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق

طالبان لیڈر شہاب الدین نے کہاکہ افغانستان میں سب کو نمائندگی دی جائے گی،اب افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے شریعت پرعمل ضروری ہے۔

کابل: افغانستان کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول طالبان کرنے کے بعد اب طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان امن پر بھی اتفاق ہو گیا ہے جس کے مطابق ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ذرائع نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور شمالی اتحاد کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ’چاری کر‘ کے علاقے میں ہوئے جس میں فریقین نے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ذرائع نے کہا ہے کہ طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان بعض موضوعات پر بات چیت جاری ہے، فریقین تفصیلات طے کرنے کے بعد میڈیا کے سامنے آئیں گے۔

دوسری جانب طالبان رہنما شہاب الدین کا اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان میں سب کو نمائندگی دی جائے گی،اب افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے شریعت پرعمل ضروری ہے۔

قبل ازیں افغانستان پرکنٹرول حاصل کرنے کے بعد صوبہ پنچ شیر ج کے لئے جدوجہد کے درمیان افغان طالبان اور پنج شیر کے جنگجوؤں کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، طالبان قیادت نے ایک بار پھر جنگ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔افغانستان کے علاقے پنج شیر میں شمالی اتحاد کے جنگجوؤں اور طالبان نے ایک دوسرے کے خلاف مورچے سنبھال لیے ہیں جبکہ دوسری طرف طالبان وفد اور جنگجوؤں کے سربراہ احمد مسعود کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔

دونوں فریقین کے درمیان اب تک مذاکرات کے دو دور ہوئے جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔اسی کے ساتھ افغان طالبان نے ایک بار پھر واضح کیاتھا کہ وہ افغانستان کے کسی بھی حصے میں خون خرابہ نہیں چاہتے اور معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

دریں اثناء گزشتہ روز طالبان کمانڈر قاری فصیح الدین نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے، انہوں نے شمالی اتحاد کے سابق اہم کمانڈر احمد شاہ مسعود کی رہائش گاہ اور وادی کی اہم چوٹیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔دوسری جانب افغانستان کے سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور صوبہ پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔

فرانسیسی جریدے کو انٹرویو میں احمد مسعود نے کہا تھا کہ میں طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مرنا پسند کروں گا، میں احمد شاہ مسعود کا بیٹا ہوں اور ہتھیار ڈالنے کا لفظ میری لغت میں نہیں ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم پنجشیر وادی پر قبضہ کرنا چاہیں تو ایک روز میں کر سکتے ہیں لیکن جنگ نہیں چاہتے اور شمالی اتحاد کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، امید ہے کہ معاملہ بات چیت سے حل ہو جائے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.