فی قبر 1.5 لاکھ روپئے کا آفر

اس چیانل کے مطابق سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ بننے والے قبور کو ہٹانے کیلئے (ٹی ایس آئی آئی سی)تلنگانہ انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن لمیٹیڈنے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا۔کارپوریشن نے فی قبرڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرنے کا میتوں کے افرادخاندان کیساتھ معاہدہ کیا۔

حیدرآباد: تیلا پور بلدیہ کے حدود میں واقع عثمان نگر کے مسلمانوں پر شاعر مشرق علامہ اقبال کے جواب شکوہ کایہ مصرع صادق آتا ہے کہ ’بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو۔ اگرتلگو چیانل اے بی این میں کیا گیا دعویٰ درست ہو۔

اس چیانل کے مطابق سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ بننے والے قبور کو ہٹانے کیلئے (ٹی ایس آئی آئی سی)تلنگانہ انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن لمیٹیڈنے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا۔کارپوریشن نے فی قبرڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرنے کا میتوں کے افرادخاندان کیساتھ معاہدہ کیا۔

تیلاپور بلدیہ کے حدود میں عثمان نگرکے سروے نمبر 30 میں ایک قبرستان واقع ہے،اس موضع کے قیام سے ہی یہاں پر قبرستان موجود ہے لیکن ٹی ایس آئی آئی سی نے قبرستان پر سڑک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا اور چندقبور کو ہٹانے کیلئے اقدامات شروع کردئیے۔

کونسلر چٹی اومیشور اور موضع کے بعض قائدین کے تعاون سے کارپوریشن ان قبور کو ہٹانے کی متعلقہ خاندانوں سے اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

موضع کے ایک قائد کے مطابق فی قبر ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کے علاوہ قبرستان کیلئے تین ایکڑاراضی مختص کرنے اور اس کی حصاربند ی کے ساتھ ساتھ بوریل اور باتھ رومس تعمیر کرنے کا بھی تیقن دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق جملہ 32افراد کو ڈیڑھ لاکھ روپے کے لحاظ سے47 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ معمول کے مطابق قبور فروخت ہوگئے اور بہت جلد قبرستان پر سے ایک گذرگاہ گذر جائے گی مگر وقف بورڈ کے ارباب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگے گی۔

ریاست تلنگانہ میں کئی قبرستان معدوم ہوچکے ہیں اور کئی اس قدر سکڑ گئے ہیں کہ اب وہاں مزید تدفین کی گنجائش باقی نہیں ہے۔

ہائی کورٹ میں اور دیگر فورم میں وقف بورڈ کے ارباب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اوقافی جائیدادوں کی صیانت کے لئے ٹھوس اقدامات کررہے ہیں مگر اس طرح کے واقعات سے وقف بورڈ کی کارکردگی آشکار ہوکر رہ جاتی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.