مسلمانوں کیلئے امکنہ فراہم کرنے قبرستان کاہی انتخاب کیوں؟

روزنامہ منصف میں شائع خبر کے بعد اپنی شبیہ کو بچانے کے لئے وقف بورڈ سے یہ اطلاع ذرائع ابلاغ تک پہنچائی گئی کہ تھرتھرے شاہ قبرستان پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ریاستی وزیر سرینواس یادو اور سرکاری عہدیداروں کے ہمراہ دورہ کیا۔

حیدرآباد: کواڑی گوڑہ میں واقع تھرتھرے شاہ قبرستان کی کھلی اراضی پر ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے منصوبہ کو عملی شکل دینا اب حکومت کے لئے مشکل ہوگیا ہے۔

قبرستان کی اراضی پر ڈبل بیڈ روم اسکیم کے تحت مکانات کی تعمیر کے لئے ریاستی وزیر افزائش مویشیان سرینواس یادو نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور ریونیوو جی ایچ ایم سی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ آج دورہ کیا تاہم اس خصوص میں روزنامہ منصف میں جمعرات کو شائع خبر کے نتیجہ میں وقف بورڈ کے حکام نے پراجکٹ کے لئے زمین الاٹ کرنے میں تردد کا مظاہرہ کیا۔

روزنامہ منصف میں شائع خبر کے بعد اپنی شبیہ کو بچانے کے لئے وقف بورڈ سے یہ اطلاع ذرائع ابلاغ تک پہنچائی گئی کہ تھرتھرے شاہ قبرستان پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ریاستی وزیر سرینواس یادو اور سرکاری عہدیداروں کے ہمراہ دورہ کیا۔

اس قبرستان کے تحت تقریباً 15 ایکڑ اراضی وقف ہے۔ اس اطلاع میں نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ریاستی وزیر نے قبرستان کی اراضی حوالہ کرنے کے لئے اصرار کیااور نہ ہی وقف جہدکاروں کی جانب سے اس اقدام کی سخت مخالفت کی گئی۔

حالانکہ دورہ کے موقع پر محمد سلیم نے ریاستی وزیر کو یہ تیقن دیا کہ زمین کی حوالگی کا مسئلہ 30 اگست کو منعقد شدنی بورڈ کے اجلاس میں پیش کریں گے اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ یاد رہے کہ قبرستان کے قریب ہی اس پراجکٹ کے تحت ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے گئے ہیں اور استفادہ کنندگان کی فہرست میں چند مسلم خاندانوں کے نام بھی شامل تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس پراجکٹ میں مسلم خاندانوں کو جگہ الاٹ کئے جانے کی ایک گوشہ کی جانب سے مخالفت کی گئی جس پر ریاستی وزیر نے محکمہ مال، وقف بورڈ اور جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں سے بعد مشاورت قبرستان کی اراضی پر ایک اور یونٹ تعمیر کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا اور اس خصوص میں ابتدائی مرحلہ کی سرکاری کارروائی بھی مکمل کرلی گئی۔

وقف بورڈ کے ذرائع کے بموجب محکمہ مال کے عہدیدار اس پراجکٹ کے لئے قبرستان کی 600 مربع گز اراضی حوالہ کرنے کے لئے وقف بورڈ سے رجوع ہوئے ہیں۔

ریاستی وزیر نے قبرستان کی اراضی کے الاٹمنٹ کے لئے غیر معمولی مستعدی اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کو اس اراضی کے معائنہ کے لئے رضامند کرلیا تاہم روزنامہ منصف میں قبرستان کی اراضی کی حوالگی سے متعلق شائع خبر کے بعد صدرنشین وقف بورڈ نے محتاط رویہ اختیار کیا اور کہا کہ قانون وقف کے مطابق اوقافی اراضی کی نوعیت تبدیل نہیں کی جاسکتی اور قبرستان کی اراضی حوالہ کرنے سے انکار کردیا۔

جس پر ریاستی وزیر نے صدرنشین وقف بورڈ کو قائل کروانے کی کوشش کی کہ وہ اس علاقہ سے اچھی طرح واقف ہیں اوراس وقت اراضی کو ناجائزقبضوں سے اب تک بچاتے آئے ہیں لہذا، مسلم خاندانوں کو امکنہ جات الاٹ کرنے یہ اراضی حوالہ کردی جائے۔ معائنہ کے دوران موجود وقف بورڈ کے عہدیداروں نے بڑی ہی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف طور پر قبرستان کی اراضی سے دستبرداری سے انکار کردیا۔

ان عہدیداروں نے وزیر کے عتاب کی پرواہ کئے بغیر قانونی مؤقف پیش کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ قبرستان سے متصل پراجکٹ میں ہنوز 18 یونٹس خالی ہیں، اس لئے مسلم استفادہ کنندگان کو یہ امکنہ یونٹس الاٹ کردئیے جائیں جس پر کچھ دیر کے لئے ریاستی وزیر برہم ہوگئے مگرمحمد سلیم نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو بورڈ کے اجلاس میں پیش کریں گے اور بورڈ کے اجلاس میں جو بھی فیصلہ کیا جاتا ہے اس کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔

وزیر اورصدرنشین وقف بورڈکے دورہ کی اطلاع پاکر سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ اور صدر دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی عثمان بن محمد الہاجری نے تھرتھرے شاہ قبرستان کا دورہ کیااور قبرستان کی اراضی پر امکنہ یونٹس کی تعمیر کی سخت مخالفت کی۔

انہوں نے کہا ک اس قبرستان کے تحت زائد از 14 ایکڑ اراضی وقف ہے جس کا منتخب اور گزٹ بھی موجود ہے۔ وقف بورڈ کی لاپرواہی کے نتیجہ میں نصف حصہ پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں اور مابقی جو زمین بچی ہے اس پر اب حکومت کی نیت خراب ہورہی ہے۔

عزیزپاشاہ نے کہا کہ قبرستان سے متصل ہی ڈبل بیڈ روم اسکیم کے تحت یونٹس تعمیر کئے گئے ہیں اور اس میں ہنوز الاٹمنٹ مکمل نہیں ہوا۔ خالی امکنہ یونٹس کو مستحق خاندانوں کو الاٹ کرنے کی بجائے ریاستی وزیر چاہتے ہیں کہ قبرستان کی اراضی پرتعمیرات کئے جائیں جو تعجب خیز ہے۔

انہوں نے اس بات پربھی حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت کے برے ارادوں کی مخالفت کرنے کی بجائے صدرنشین وقف بورڈ معاونت کرنے کے درپے نظر آرہے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.