معاوضہ لے کر لاتیں اور گھونسے کھانے والا انوکھا ڈاکٹر

یہ سوچ انہیں ترکی کے ایک مشہور ڈرامے سے ملی، جس کا ایک کردار دوسروں سے خوب مار کھاتا ہے لیکن پلٹ کر کچھ بھی نہیں کہتا۔اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے 2010 میں اپنا منفرد کلینک شروع کیا، جہاں آنے والے مریضوں کےلیے کسی جیتے جاگتے انسان کو لاتیں اور گھونسے مار کر غصہ ختم کرنے کی خصوصی سہولت دستیاب تھی۔

سوشل میڈیا پر آج کل ترک ڈاکٹر حسن رضا گوئنے کے بہت چرچے ہیں جو مریضوں کا علاج کرنے کےلیے ان سے لاتیں اور گھونسے کھاتے ہیں، البتہ وہ اس ’خدمت‘ کا معاوضہ لیتے ہیں۔استنبول کے رہائشی، ڈاکٹر گونیز کا کہنا ہے کہ بعض نفسیاتی مسائل، جیسے کہ شدید اعصابی تناؤ اور ڈپریشن میں صرف دوا سے کام نہیں چلتا بلکہ مریض کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔

یہ سوچ انہیں ترکی کے ایک مشہور ڈرامے سے ملی، جس کا ایک کردار دوسروں سے خوب مار کھاتا ہے لیکن پلٹ کر کچھ بھی نہیں کہتا۔اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے 2010 میں اپنا منفرد کلینک شروع کیا، جہاں آنے والے مریضوں کےلیے کسی جیتے جاگتے انسان کو لاتیں اور گھونسے مار کر غصہ ختم کرنے کی خصوصی سہولت دستیاب تھی۔

جلد ہی یہ کلینک پورے استنبول میں مشہور ہوگیا اور بڑی تعداد میں لوگ ان کے پاس آنے لگے اور انہوں نے اپنی خدمات کا دائرہ صرف مریضوں کے گھونسے اور لاتیں کھانے تک ہی محدود کرلیا۔اسی کے ساتھ ڈاکٹر گوئنے نے اپنے پیشے کو ایک نیا نام ’اسٹریس کوچ‘ بھی دے دیا۔تاہم وہ ایک دن میں صرف چار مریض ہی دیکھتے ہیں جبکہ ہر مریض کو دس سے پندرہ منٹ کا وقت دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اپنے مریضوں کا انتخاب بھی بہت احتیاط سے کرتے ہیں۔

’’ہر مریض ایسا نہیں ہوتا کہ اسے اپنی نفسیاتی کیفیت سے چھٹکارا پانے کےلیے کسی کو مارنے پیٹنے کی ضرورت ہو۔ پھر کچھ لوگ صرف شہرت سن کر اور وقت گزارنے کےلیے میرے پاس آجاتے ہیں۔ میں ان میں سے کسی کو وقت نہیں دیتا بلکہ صرف وہی مریض دیکھتا ہوں کہ جن میں ڈپریشن اور اعصابی تناؤ کی کیفیات انتہائی شدید ہوں،‘‘ ڈاکٹر گوئنے نے بتایا۔مریض کا انتخاب کرنے کے بعد وہ ضروری کاغذی کارروائی کے بعد اپنا مخصوص حفاظتی لباس پہنتے ہیں اور مریض کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ وہ آسانی سے، پوری شدت کے ساتھ ان پر لاتیں اور گھونسے برسا سکے۔بعض مریضوں کو کسی خاص شخص پر شدید غصہ ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں ڈاکٹر گوئنے اس شخص کی تصویر اپنے ہیلمٹ پر لگا لیتے ہیں۔ اس طرح مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ناپسندیدہ ترین شخص پر اپنا غصہ اتار رہا ہے۔ڈاکٹر گوئنے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے منفرد ہنر کی تربیت دوسرے لوگوں کو بھی دینا چاہتے ہیں کیونکہ جلد یا بدیر وہ بوڑھے ہوجائیں گے اور ان میں مریضوں کے گھونسے اور لاتیں کھانے کی ہمت نہیں رہے گی۔

’’میں چاہتا ہوں کہ اس وقت سے پہلے پہلے دوسروں کو بھی یہ کام سکھا دوں تاکہ وہ بھی اپنی اپنی جگہوں پر رہتے ہوئے نفسیاتی مریضوں کا علاج کرسکیں،‘‘ ڈاکٹر گوئنے نے ہنستے ہوئے مقامی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے کو بتایا۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.