معطل قاضی کے جاری کردہ سیاہ نامہ پر میریج سرٹیفکیٹ کی اجرائی، وقف بورڈ کا کارنامہ

وقف بورڈ نے ابراہیم شریف کی جانب سے غیر مجاز طور پر جاری کردہ نکاح بک لیٹ اور میریج سرٹیفیکیٹ کی اساس پرجاریہ ماہ کی 4 تاریخ کو میریج سرٹیفیکیٹ بھی جاری کردیا جو ایک سنگین غلطی ہے۔

حیدرآباد: بانی جامعہ نظامیہ مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے عقد نکاح کی دستاویز سازی کا ایک ایسا نظم قائم کیا کہ ہمارے ہاں صدی قبل انجام پایا عقد نکاح کی بھی تفصیلات محفوظ ہیں۔

حیدرآباد ریاست کے انڈین یونین میں انضمام کے بعد بھی اس نظام کو باقی رکھا گیا ہے۔

نظام قضاۃ جو تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ سے مربوط ہے، مسلمانوں کے نکاح و طلاق کا ایک مبسوط ریکارڈ رکھتا ہے جس کے تحت وقف بورڈ، امور نکاح کے اندراجات کے لئے قاضی صاحبان کو سیاہیہ جات اور کتابچہ جاری کرتا ہے۔

ریاستی حکومت کے مسلمہ قاضی صاحبان، وقف بورڈ سے سیاہیہ جات اور کتابچے حاصل کرتے ہیں اور بوقت نکاح، ان کی خانہ پری کی جاتی ہے اور عاقدین کو کتابچے حوالے کئے جاتے ہیں جبکہ سیاہیہ جات کی ایک نقل صدر قاضی، وقف بورڈ اورآرکائیوز میں جمع کروائی جاتی ہے تاکہ ریکارڈ رہے۔

موجودہ نظام کے مطابق تمام مسلمہ قاضی صاحبان، وقف بورڈ سے ہی کتابچے اور سیاہیہ جات حاصل کرتے ہیں اور نکاح کی انجام دہی کے لئے ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان مسلمہ قاضی صاحبان کی جانب سے جاری کردہ کتابچہ کی اساس پر ہی وقف بورڈ صداقتنامہ نکاح بھی جاری کرتا ہے۔ علاوہ ازیں شیعہ اور مہدی برادری کے کچھ مسلمہ علمائے کرام کے صداقتناموں پر بھی وقف بورڈ صداقتنامہ نکاح جاری کرتا ہے۔

 مگر وقف بورڈ سے کی گئی ایک شکایت میں یہ بات علم میں آئی ہے کہ عقود نکاح کی انجام دہی میں بے قاعدگیوں میں ملوث ایک نائب قاضی جو معطل شدہ صدر قاضی کے تحت کام کرتا ہے ماضی میں اپنے طور پر نکاح کے کتابچہ شائع کرواکر امور نکاح انجام دیا ہے اور اپنے طور پر میریج سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس کی اساس پر وقف بورڈ نے میریج سرٹیفیکیٹ بھی جاری کردیا جس سے وقف بورڈ کی بدعنوان  عہدیداروں اور بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے درمیان ملی بھگت آشکار ہوتی ہے۔

قاضی احمد شجاع الدین قادری، قاضی غازی بنڈہ زون، گریٹر حیدرآباد کی شکایت کے بموجب ابراہیم احمد شریف جو قضاۃ عروب و شوافع کے نائب قاضی تھے اور اب قاضی محمد ظہیر الدین ایڈیشنل قاضی قلعہ محمد نگر حیدرآباد کے نائب قاضی کے طور پر کام کررہے ہیں، 28 اکتوبر 2011 کو بشیر فنکشن ہال، انجن باؤلی، حیدرآباد میں ایک نکاح انجام دیا۔

اس نکاح کے لئے ’دارالقضاء الشرعی للشافعی و العروب‘ کے نام سے کتابچہ جاری کیا گیاجو ہو بہ ہو ویسا ہی جیسا وقف بورڈ جاری کرتا ہے۔ اسی دارلقضاۃ کے نام سے میریج سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا گیاجن پر ابراہیم احمد شریف نے قاضی کے طور پر دستخط کئے۔

وقف بورڈ نے ابراہیم شریف کی جانب سے غیر مجاز طور پر جاری کردہ نکاح بک لیٹ اور میریج سرٹیفیکیٹ کی اساس پرجاریہ ماہ کی 4 تاریخ کو میریج سرٹیفیکیٹ بھی جاری کردیا جو ایک سنگین غلطی ہے۔

یاد رہے کہ ابراہیم شریف کے خلاف چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن میں سال 2017 ء میں ایک حیدرآبادی خاتون کی عمانی شہری سے نکاح ثانی کرتے ہوئے دھوکہ دینے پر ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

وقف بورڈ کی جانب سے میریج سرٹیفیکیٹ کی اجرائی اورمذکورہ فرد کی جانب سے غیر مجاز طور پر امور نکاح کی انجام دہی کی جامع تحقیقات ہونی چاہئے، بصورت ایسے افراد کے حوصلے بڑھ جائیں گے جس کے نتیجہ میں وہ مزید سنگین غلطیوں کا ارتکاب کریں گے۔

قاضی شجاع الدین نے اپنی شکایت میں چیف ایکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ سے درخواست کی کہ وہ ان امور کی تحقیقات کا آغاز کریں اور فرضی نکاح بک لیٹس اور صداقتنامہ نکاح جاری کرنے والوں خاص کر ابراہیم شریف کے خلاف کارروائی کریں جو خود کو قاضی ظاہر کرتے ہوئے امور نکاح انجام دے رہے ہیں۔

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے منصف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کروائیں گے اور خاطیوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں گے اور ضرورت پڑنے پر کریمنل کیس بھی درج کروائیں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کوتاہیاں نہ ہونے پائے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.