ناقص نمبر پلیٹ کیلئے مسلم شخص پر حملہ‘ بندوق دکھاکر دھمکی

اسی وقت ایک پولیس ملازم مجھے گھسیٹ کر پولیس اسٹیشن لے گیا اور اپنی لاٹھی سے 20تا 30مرتبہ پیٹا۔ پولیس عہدیدار نے اپنی بندوق نکال لی اور مجھے دھمکی دی۔

چکمگلورو: چکمگلورو ضلع میں گاڑی کی ناقص نمبر پلیٹ کے لیے ایک مولانا پر حملہ کرنے اور انہیں بندوق دکھاکر دھمکی دینے کا واقعہ سامنے آیا جس کے بعد محکمہ پولیس نے پولیس کی اس زیادتی پر فوری معذرت خواہی کی اور خاطی عہدیدار کے خلاف کارروائی کا تیقن دیا۔

پولیس نے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے کابھی تیقن دیا۔ یہ واقعہ 25/ ستمبر کو پیش آیا جب امتیاز مولانا کو چکمگلورو پولیس نے ان کی ٹووہیلر گاڑی کے ناقص نمبر پلیٹ کے لیے روکا۔

مولانا نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو دواخانہ سے ڈسچارج کروایا تھا۔ مجھے جماعتوں کے لیے جانا تھا۔ میں جلدی میں تھا۔ میں نے پولیس سے مجھے چھوڑدینے کو کہا۔ مجھے پولیس اسٹیشن کے اندر سب انسپکٹر سے بات کرنے کو کہا گیا۔ میں نے ان سے بار بار پوچھا کہ آخر ناقص نمبر پلیٹ کا مسئلہ کیا ہے؟“

انہوں نے کہا کہ کوئی جواب نہ ملنے پر میں نے دیگر ملازمین سے بھی پوچھا کہ وہ صرف یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناقص رجسٹریشن نمبر پلیٹ ہے۔

اسی وقت ایک پولیس ملازم مجھے گھسیٹ کر پولیس اسٹیشن لے گیا اور اپنی لاٹھی سے 20تا 30مرتبہ پیٹا۔ پولیس عہدیدار نے اپنی بندوق نکال لی اور مجھے دھمکی دی۔

بعد ازاں مجھے ایک گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ جس کے بعد میں نے 500روپئے جرمانہ ادا کیا اور پولیس نے مجھے جانے دیا۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے اس واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔

جماعت کے جنرل سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ نے سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سب انسپکٹر کی جانب سے دلت نوجوان کو پیشاب پینے پر مجبور کرنے کے کچھ دن بعد یہ واقعہ پیش آیا۔

ایس آئی کو گرفتار کیا گیا۔ کرناٹک میں پولیس مظالم بڑھ گئے ہیں اور وزیر داخلہ کو اس معاملے میں کارروائی کرنی چاہیے۔“ کوڈلی پیٹ نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ایس پی پولیس ہکے اکشئے مچیندرا نے فون کرکے معذرت خواہی کی۔

ایس پی نے پولیس عہدیدار کے خلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہونے کا تیقن دیا۔ ہم جواب سے مطمئن ہیں۔“ جب ایس پی ہکے اکشئے مچیندر سے ربط پیدا کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہیں اور بعد ازاں جواب دیں گے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.