ٹمریز کو لیز، قانون و قواعد وقف کی صریح خلاف ورزی

قانون وقف میں سال 2013 ء میں اوقافی جائیدادوں کو لیز پر دینے سے متعلق دفعات میں ترامیم کرتے ہوئے 30 برس کی مدت کے لئے لیز پر دینے کی مشروط گنجائش فراہم کی گئی ہے جس کا سہارا لیتے ہوئے وقف بورڈ نے 29 مقامات پر واقع اوقافی جائیدادیں ٹمریز کو اقامتی تعلیمی اداروں کو لیز پر دینے کے لئے آج ایک قرار داد منظور کی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ مائنارٹیز ریسیڈنشیل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس سوسائٹی (ٹمریز) کے تحت یقیناً اعلیٰ معیاری تعلیمی ادارے چلائے جارہے ہیں اور ان اداروں سے اقلیتی برادریوں کے غریب طلبہئ مستفید ہورہے ہیں جن میں 70 فیصد سے زائد مسلم بچے اور بچیاں شامل ہیں مگر اس کا یہ ہرگز یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ ٹمریز کے معاونت کے لئے قانون وقف کی دھجیاں اڑائی جائیں۔

قانون وقف میں سال 2013 ء میں اوقافی جائیدادوں کو لیز پر دینے سے متعلق دفعات میں ترامیم کرتے ہوئے 30 برس کی مدت کے لئے لیز پر دینے کی مشروط گنجائش فراہم کی گئی ہے جس کا سہارا لیتے ہوئے وقف بورڈ نے 29 مقامات پر واقع اوقافی جائیدادیں ٹمریز کو اقامتی تعلیمی اداروں کو لیز پر دینے کے لئے آج ایک قرار داد منظور کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ پر ایک عرصہ سے دباؤ ڈالا جارہا تھا تاہم وقف بورڈ کے چند ارکان نے قانون وقف کا حوالہ دیتے ہوئے نامزدگی کی اساس پر ٹمریز کو اوقافی جائیدادیں لیز پر دینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا مگرصدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کسی طرح اس خصوص میں قرارداد منظور کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

قانون وقف کی دفعہ 56 کے مطابق کوئی بھی اوقافی جائیداد، تجارتی سرگرمیوں، تعلیم یا صحت کے مقاصد کے لئے 30 برس تک کی لیز کے لئے دی جاسکتی ہے مگر اس کے تحت کچھ شرائط عائد کئے گئے ہیں جس کی رو سے وقف بورڈ کو مرکزی حکومت کی جانب سے مدون کردہ قواعد کے دائرہ کار میں ریاستی حکومت کی پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگااور بوڈ کو چاہئے کہ کسی بھی اوقافی جائیداد کو لیز پر دینے سے قبل لیز کی تفصیلات شائع کرے اور کم ازکم ایک موقر قومی اور علاقائی اخبارات میں بولیاں طلب کرے اور اس کے فوری بعد ریاستی حکومت کو آگاہ کرے۔

وزارت اقلیتی امور کی جانب سے  قواعدنزول اوقافی جائیدادیں 2014 مدون کئے گئے جس میں 2015 اور 2020 میں ترامیم کئے گئے، جس کے مطابق کسی بھی اوقافی جائیداد کو لیز پر دینے سے قبل اس کی معقول تشہیر کی جانی چاہئے اور سب سے زیادہ کرایہ کی پیشکش کرنے والے فرد کو لیز پر جگہ دی جانی چاہئے۔

ان قواعد کی رو سے محفوظ قیمت، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لئے  فی مربع فیٹ سالانہ کرایہ جائیداد کی مارکٹ ویلیو کا ایک فیصد سے کم نہیں ہونا چاہئے جبکہ تجارتی اغراض کے لئے 2.5 فیصد سے کم نہ ہو۔ تیس برس کے لئے لیز پر دینے کی صورت میں 24 ماہ کا کرایہ بطور سیکوریٹی ڈپازٹ حاصل کیا جائے۔

ٹمریز کو لیز پر دینے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس سے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے چونکہ یہ قانون وقف اور قواعد نزول اوقافی جائیداد کی صریح خلاف ورزی ہے۔وقف جہدکاروں نے استفسار کیا کہ سرکاری زمینا ت کیوں نہیں دی جاتی؟ اس لئے کہ نہ ہی قانون وقف میں اور نہ ہی قواعد میں نامزدگی کی بنیاد پر تیس برس کے لئے لیز پر دینے کی گنجائش ہے۔

علاوہ ازیں ایسا کرنے سے اوقافی جائیدادوں سے بہتر آمدنی کے ذرائع مسدود ہوجائیں گے۔ ممکن ہے کہ لیز پر دینے کے لئے وسیع تر تشہیر کرنے کی صورت میں مسابقت بڑھ جائے اور اقل ترین شرح سے کئی گنا زائد کرایہ کی پیش کش ہوجائے۔ وقف بورڈ نے نہ ہی ان اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے اور نہ ہی قانو ن اور قواعد کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے لیز کی تفصیلات کو شائع کیا ہے جس کے نتیجہ میں کوئی بھی عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے وقف بورڈ کو ایسا کرنے سے باز رکھ سکتا ہے۔

اس خصوص میں وقف جہدکار ایم کے مبین نے وقف بورڈ اور ریاستی حکومت کے اس اقدام کو مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ان اقامتی اسکولس اور کالجس میں جب تقررات کا مرحلہ آتا ہے تو روسٹر سسٹم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ان اداروں میں 90 فیصد ملازمین غیر مسلم ہیں جس کے نتیجہ میں ان تعلیمی اداروں میں ایک مخصوص مذہب کی چھاپ بڑھتی جارہی ہے۔

 حال ہی میں شہر کے ایک اقامتی اسکول کی ویڈیو گشت کررہی ہے جس میں یوم اساتذہ کے موقع پر اسٹاف کی ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں ہندو عقیدہ کا کھل کر اظہار کیا گیا ہے مگر جب ان تعلیمی اداروں کے لئے زمینات کی فراہمی کی بات آتی ہے تو حکومت کو اوقافی جائیدادیں ہی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ان اسکولس کے لئے سرکاری زمینات الاٹ کرے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.