ٹوئیر پرزہرافشانی۔خاتون کے خلاف کاروائی کرنے صدرمجلس کازور

شمالی ہند میں یہ ذہنیت اپنا رنگ دکھانا شروع کردی ہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کو اقتدار پر دیکھنے کے کچھ خواہش مند یہاں پر بھی مذہب کی آڑ میں زہر گھولنا چاہتے ہیں۔

حیدرآباد: پیشہ کی بنیاد پر تحریم فرد کی درجہ بندی کے سماج پر جو گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ اس کی تلافی آزادی کے 7 دہوں تک بھی سماج کے نظرانداز کردہ طبقات کو تحفظات کی فراہمی سے نہیں ہوپائی ہے مگر خمیدہ ذہنیت کے حامل لوگ اس مرتبہ چاہتے ہیں کہ سماج کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرتے ہوئے بھارتی سماج کوایک بار پھر بانٹ دیا جائے، یہ سوچے بغیر کہ اس کے اثرات کس قدر گہرے ہوں گے۔

شمالی ہند میں یہ ذہنیت اپنا رنگ دکھانا شروع کردی ہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کو اقتدار پر دیکھنے کے کچھ خواہش مند یہاں پر بھی مذہب کی آڑ میں زہر گھولنا چاہتے ہیں۔

اوشا نرملا نامی ایک خاتون نے جوٹویٹر اکاؤنٹ پرایک وینچر کیاپٹلسٹ کے طور پر متعارف ہے، اسے اب یہ کھٹکنے لگا ہے کہ پھلوں اور ترکاری کی مارکٹس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے۔

اس نے ایک زہر بھرا پیام ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے تلگو ریاست میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ آپ نے نوٹ کیا کہ فروٹ اور ویجیٹبل مارکٹ میں ایک برادری کی اجارہ داری ہے؟ہم چند سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر اس سے نمٹنے کے لئے ایک بزنس ماڈل پر غور کررہے ہیں۔

اس ٹوئٹ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ٹوئٹر پر جواب دیتے ہوئے زبردست طنز کیا کہ بھکت 2014 سے قبل دعویٰ کرتے تھے کہ ہم سالانہ ایک کروڑ ملازمتیں پائیں گے اور 2021 میں کہہ رہے ہیں کہ مسلمان، سبزی فروخت کرنے کا ہمارا جاب چھین رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر داخلہ کو ٹیاگ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف مجرمانہ مظالم آپ کی وزارت کی ذمہ داری ہے۔ کیا آپ کارروائی کریں گے یا پھر ہمیں یہ قیاس کرلینا چاہئے کہ انہیں آپ کا آشیرواد حاصل ہے؟

انہوں نے ڈی جی پی تلنگانہ اور کمشنر پولیس حیدرآباد کو بھی ٹیاگ کرتے ہوئے کہا کہ اس پر سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ ہم حیدرآباد کو فرقہ وارانہ مجرمین کے کی جائے بنتا چھوڑ نہیں سکتے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.