ٹی آرایس کی پہلی مسلم خاتون جہدکارکو پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں؟

علحدہ تلنگانہ کی خاطر رحیم النساء بیگم(رانی ردرماں) جیل بھی گئیں‘153کیس درج۔23مقدمات زیرالتواء۔شوہرکی نوکری بھی گئی۔نئی ریاست کیلئے سب کچھ لٹانے والی خاتون سے پارٹی قیادت کے بے اعتنائی

بلرام سنگھ

علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والی رحیم النساء بیگم کو جنہیں خود چیف منسٹرکے چندرشیکھرراؤ اور پروفیسر کودنڈارام نے ”رانی ردرماں“ کا خطاب دیاتھا‘ ٹی آرایس میں شامل ہونے والی پہلی مسلم خاتون کااعزازحاصل ہے۔

انہوں نے علحدہ تلنگانہ کازکیلئے ٹی آرایس میں شمولیت اختیارکی تھی عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹیوں میں اس جہدکار خاتون کو تہنیت بھی پیش کی گئی تھی مگر ستم طریفی یہ ہے کہ رحیم النساء بیگم کوآج حکمراں جماعت ٹی آرایس میں کوئی جگہ نہیں مل پائی ہے۔

تشکیل تلنگانہ اور ٹی آرایس حکومت قیام کے بعد رحیم النساء بیگم کو فراموش کردیاگیا۔ علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کے دوران پیش آئے واقعات وتجربات کا انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کے چندرشیکھرراؤنے جب دکشا(بھوک ہڑتال) شروع کی تھی تب وہ ٹی آرایس میں شامل ہوئی تھیں اس طرح انہیں ٹی آرایس میں شامل ہونے والی پہلی مسلم خاتون کابھی اعزاز حاصل ہے۔

کے سی آرکی دکشاکے وقت یہ باتیں کہی جارہی تھیں کہ کوئی بھی مسلمان علحدہ تلنگانہ تحریک کی مددنہیں کررہے ہیں اس وقت میں نے کانگریس کی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔حیدرآباد میں نمائندہ منصف سے بات چیت کرتے ہوئے رحیم النساء بیگم عرف رانی ردرماں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آرایس میں شمولیت سے قبل وہ جنرل سکریٹری ضلع کانگریس ورنگل کے عہدہ پرفائز تھیں۔

رحیم النساء بیگم (رانی ردرماں) کے خلاف پولیس نے 153کیس درج کئے تھے جس کا مقصد ان کے حوصلوں کو پست کرناتھا۔ان 153 کیسس میں ابھی بھی 23کیس ان کیخلاف زیرالتواء ہیں۔انہوں نے ہی کانگریس اور تلگودیشم پارٹی کے قائدین جو علحدہ تلنگانہ کیخلاف تھے‘پرچپل پھینکے تھے اس طرح کی جرات کامظاہرہ اب تک کسی خاتون نے نہیں کیا۔

انہوں نے ہی دہلی میں مرکزی پارلیمنٹری سکریٹری پر بھی چپل پھینکا تھا جو علحدہ ریاست تلنگانہ کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علحدہ تلنگانہ کے قیام کے مطالبہ پر وہ ورنگل میں سل فون کے ٹاورپرچڑھ گئی تھیں تب اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مجھ سے بات کی اور مجھ کوکوسل ٹاور سے نیچے آنے کا مشورہ دیا۔

اس مسئلہ پرتبادلہ خیال جاری تھا کہ موجودہ چیف منسٹر کے سی آر نے مجھ سے فون پر بات کی اور نیچے آنے کی اپیل کی۔کے سی آر نے کہاکہ تھا”ہم تلنگانہ حاصل کرکے رہیں گے“ چند حامی مجھے نیچے لارہے تھے کہ اچانک میں گرپڑی جس کے سبب شدید چوٹیں آئیں۔ ایک خانگی ہاسپٹل میں میرا آپریشن کیاگیا جو7 گھنٹوں تک جاری رہا۔

علحدہ تلنگانہ کاز کی خاطر وہ 2سال جیل میں بھی تھیں اس وقت میرے بچے کی عمر 2سال تین ماہ تھی۔میں نے جیل صرف تلنگانہ کے خاطر انہوں شیر خوار بیٹے کی جدائی کوقبول کیا اورجیل گئی یہ وقت میرے لئے بہت کھٹن تھا۔ اس وقت میرے شوہر کوجومرکزی حکومت کے ملازم تھے اور چینائی میں کام کررہے تھے‘نوکری سے برطرف کردیاگیا تھا۔پولیس مجھ کو اور میرے شوہر کو اذیتیں دے رہی تھی۔

جب کبھی کوئی وزیر ورنگل کے دورہ پرآتاتب پولیس مجھے گھرپر نظر بندکرتی تھی۔ رحیم النساء بیگم (رانی ردراماں) نے دعویٰ کیا کہ ریاست کی وہ پہلی مسلم خاتون ہیں جنہوں نے ٹینک بنڈ پر منظم کردہ ملینیم مارچ میں شرکت کی تھی اور وہ غیر تلنگانہ قائدین کے مجسموں کوتوڑنے اور ان مجسموں کوحسین ساگر میں پھینکنے میں بھی شامل تھیں۔تلنگانہ کے ہر ضلع اور دہلی میں میرے خلاف کیسس درج کئے گئے تھے۔

ان تمام مصائب ومسائل کے باوجود وہ آج بھی عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔ چیف منسٹر کے ساتھ انہوں نے دہلی میں تلنگانہ بھون کی سنگ بنیادتقریب میں شرکت کی۔ان کا کہنا ہے کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول کیلئے دی گئی قربانیوں اورجدوجہد کی ایک طویل فہرست ہے۔تلنگانہ کیلئے جدوجہد کرنے پر مجھے‘رشتہ داراورعزیزواقارب بھی شادی بیاہ تقاریب میں بھی مدعو نہیں کررہے تھے۔

حتیٰ کہ میرے افراد خاندان نے بھی مجھ سے بے دوری اختیارکرلی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے چندر شیکھرراؤ انہیں بیٹی کہہ کرپکاراکرتے تھے۔پروفیسر کودنڈارام بھی مجھ کو بیٹی کہتے تھے۔ پروفیسر صاحب اکثریہ کہاکرتے تھے کہ اگر مجھ کورحیم النساء بیگم جیسی بیٹی ہوتی تو وہ دھنی ہوتے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد انہیں ٹی آرایس میں کوئی جگہ نہیں ملی لیکن تشکیل تلنگانہ سے قبل انہیں پارٹی کا ریاستی جنرل سکریٹری کے عہدہ پر فائز کیاگیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی عہدہ کے لئے جب کبھی وہ چیف منسٹر‘وزیر ای دیاکر راؤ‘ مقامی ارکان اسمبلی ونئے بھاسکر سے ربط پیدا کرتی ہیں توانہیں ان سے ایک ہی جواب ملتا تھا کہ آپ (رحیم النساء بیگم) نے کونڈاسریکھا کی جنہیں ٹی آرایس نے حلقہ اسمبلی پرکال سے امیدوار بنایاتھا‘ مخالفت کرکے بڑی غلطی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کونڈاسریکھا‘ علحدہ تلنگانہ کے خلاف تھیں اوروہ جگن کے ساتھ تھیں جبکہ جگن علحدہ تلنگانہ کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی صرف ایک خواہش ہے کہ ٹی آرایس میں ایک دن کے لئے ہی سہی انہیں ایک عہدہ دیاجائے۔اس کے بعد وہ مرنے کے لئے تیار رہیں گی۔یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.