چائے کے شوقین حیدرآبادیوں کیلئے ایک ہزار روپے فی کپ

ایک ہزارروپے فی کپ فروخت کی جانے والی یہ انوکھی چائے منفرد ذائقہ اور خوشبو رکھتی ہے جو بھارت کے چائے کے دارالحکومت آسام کے ایک موضع ”مائیجان“میں گرمیوں کے اوائل میں ہاتھ سے توڑی جاتی ہے اور اس کا رنگ عام چائے کے مقابل زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

حیدرآباد: ہزار روپے کی چائے؟ ہاں جناب حیدرآبادی چائے کے شائقین ’مائیجان پریمئم گولڈن ٹپس چائے‘ کے رسیا ہوگئے ہیں جو کیفے نیلوفر میں سربراہ کی جارہی ہے۔

ایک ہزارروپے فی کپ فروخت کی جانے والی یہ انوکھی چائے منفرد ذائقہ اور خوشبو رکھتی ہے جو بھارت کے چائے کے دارالحکومت آسام کے ایک موضع ”مائیجان“میں گرمیوں کے اوائل میں ہاتھ سے توڑی جاتی ہے اور اس کا رنگ عام چائے کے مقابل زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

گولڈن ٹپس بلیک ٹی‘ کیفے نیلوفر کے بنجارہ ہلز میں آؤٹ لیٹ پر سربراہ کی جاتی ہے جس کا حال ہی میں افتتاح ہوا ہے۔یہ چائے سوندھا ذائقہ رکھتی ہے اور اس کی تازگی کافی دیرتک برقرار رہتی ہے۔

صدرنشین کیفے نیلوفر بابو راؤ نے بتایا کہ ہم نے مائیجان میں ایک نیلامی میں گولڈن ٹپس چائے 75 ہزار روپے فی کیلو کی قیمت پر خریدی تاہم ہمیں صرف دیڑھ کیلوگرام فصل حاصل ہوئی اور ہم نے پوری فصل خریدلی۔ اس شاندار چائے کی منفرد قسم ایک ہزار روپے فی کپ دستیاب ہے۔

انتہائی نفیس اوربہترین سفیدچائے کی نمائندہ گولڈن ٹپس چائے ایک لاجواب ذائقہ اورخوشبو رکھتی ہے اور اس کامیٹھامیٹھا مزہ کافی دیر تک قائم رہتا ہے اور مدتوں اس کا ذائقہ یاد رکھا جائے گا۔ان کا کہناہے کہ یہ انتہائی خوشبودار چائے ہے اور اتنی لذت بخش ہے کہ شہر کے چائے کے شائقین کی پہلی پسند بن گئی۔اس کاذائقہ اور خوشبو‘پینے والے کے ذہن پر دیرتک چھائے رہتے ہیں اوراسے ایک انوکھے سرور سے روشناس کراتے ہیں اوریہ ایک یادگارتجربہ ہوتا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ خوشبو اور ذائقہ کے علاوہ یہ چائے مفید صحت بھی ہے۔اس کے استعمال سے قلب کی صحت بہترہوتی ہے۔ذہنی دباؤ اور کولیٹسرول کم ہوتا ہے اور یہ بدہضمی کوبھی دور کرتی ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ صرف دیڑھ کیلو گرام چائے میں وہ کتنے لوگوں کے ذوق کو پورا کرسکیں گے، بابو راؤ نے جو بابو سیٹھ کے نام سے مشہور ہیں‘ بتایا کہ یقیناً یہ لمیٹیڈ ایڈیشن ہے اور ہم بمشکل 250 لوگوں کو ہی اس چائے کی لذت سے روشناس کرواسکیں گے۔ چونکہ اس طرح کی انوکھی چائے زیادہ مقدار میں دستیاب نہیں ہوتی ہے اور اس کے لئے ہراج ہوتا ہے اور جو سب سے زیادہ بولی دیتا ہے اسے یہ حاصل ہوتی ہے۔

یہ چائے سال میں صرف ایک مرتبہ اکتوبر اور نومبر کے مہینہ میں ہی عموماً ہراج ہوتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گاہکوں کے لئے آئندہ بھی اسی طرح کی منفرد چائے پیش کرتے رہیں گے اور ممکن ہے کہ وہ چائے اس سے بھی زیادہ معیاری اور مہنگی ہو۔ نیو کیفے نیلوفر گولڈن ٹپس بلیک ٹی کے علاوہ بھی دنیا بھر میں مشہور مختلف چائے جیسے سلور نیڈل وائٹ ٹی، ساؤتھ افریقن روئبوس،مراقشی پودینہ اور جاپانی سینچا چائے کی پیشکش کرتا ہے جو 300 روپے فی کپ دستیاب ہیں۔

علاوہ ازیں کیفے کے مینو میں شامل میں گل جوش چائے جیسے چمیلی، گل بابونہ وغیرہ بھی چائے کے شوقین کو راغب کرتی ہیں۔ بنجارہ ہلز آوٹ لیٹ جو شہر میں کئی لوگوں کے لئے ’چائے کا اڈہ‘ ہے اب مشروب کا ایک پرکشش مرکز بن گیا ہے جہاں بالکلیہ نئی انواع کے اسناکس گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔

کیفے پر اب کنفیکشنریز، اطالوی غذاؤں، سینڈوچس اور سلادکے وسیع تر رینج کے لئے علاوہ صحت بخش ٹفنس جیسے راگی اپما، quinoa اور پوہا بھی گاہکوں کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ کیفے نیلوفر جس نے حال ہی میں روڈ نمبر 12، بنجارہ ہلز پر ’ٹیک اوے اور ڈائن ان کیفے کھولا ہے، بہت جلد حمایت نگر میں بھی اپنا ایک منفرد کیفے کھولنے جارہا ہے۔

بابو سیٹھ نے بتایا کہ حمایت نگر کا آوٹ لیٹ سب سے جداگانہ ہوگااور مشروبات کے لئے یہ حیدرآباد کا ایک منفرد اور پسندیدہ مرکز بن جائے گا۔ امید ہے کہ کیفے کا کام دسمبر تک مکمل ہوجائے گا مگر تاریخ افتتاح ابھی طئے نہیں کی گئی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.