چار مینار کے دامن میں سنڈے فنڈے، کچھ حامی بیشتر مخالف

پہلے سنڈے فنڈے میں عوام بالخصوص مسلم نوجوانوں اور برقعہ پوش خواتین کی بڑی تعداد تفریح کی غرض سے پہنچی تھی مگر اس پروگرام کی جو تصاویر اور ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں، انہیں دیکھنے کے بعد حیدرآباد کے شرفا کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد فرخندہ بنیاد تہذیبی شہر کہلاتا ہے لیکن تہذیب کے معنی ہر ایک پاس الگ الگ ہوتے ہیں۔ تہذیبوں کے تحت طرز معاشرت تشکیل پاتے ہیں اور معاشرہ کسی بھی مذہب سے متاثر ہوکر تشکیل پاسکتا ہے۔ شہر حیدرآباد کے باسی پرانے شہر حیدرآباد کو اصل شہر تصور کرتے ہیں۔ بالخصوص یہاں کے مسلمان حیدرآبادی تہذیب کے امین سمجھے جاتے ہیں۔

حیدرآبادی تہذیب سارے عالم میں مشہور ہے۔ یہاں کی مہمان نوازی، طرز گفتگو، بریانی، ایرانی چائے اور طرز معاشرت حیدرآباد کو دیگر شہروں سے ممتاز بناتے ہیں۔ تہذیب یا تہذیبی پروگراموں کے نام پر دنیا کے دیگر شہروں یا پھر حیدرآباد کے ہی دیگر حصوں میں کیا کچھ ہوتا ہے، اس کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن حکومت تلنگانہ کے محکمہ تہذیب و ثقافت اور بلدیہ کی جانب سے پرانے شہر چارمینار کے دامن میں ایک شام چارمینار کے نام سے سنڈے فنڈے پروگرام جیسے ہی منعقد کیا گیا، یہ یہاں کے بیشتر لوگوں کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

اگرچہ 17 اکتوبر کو منعقدہ پہلے سنڈے فنڈے میں عوام بالخصوص مسلم نوجوانوں اور برقعہ پوش خواتین کی بڑی تعداد تفریح کی غرض سے پہنچی تھی مگر اس پروگرام کی جو تصاویر اور ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد کسی بھی مہذب مرد یا خاتون سے ایسی حرکتوں کی توقع نہیں کی جاسکتی جو سنڈے فنڈے کے نام پر چارمینار کے دامن میں ان لوگوں سے سرزد ہوئی ہیں۔  

وائرل تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق تہذیبی پروگرامس کے نام پر سنڈے فنڈے میں جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا، اس سے حیدرآباد کے شرفاء کا سر شرم سے جھک گیا ہے اور وہ اب سنڈے فنڈے پروگرام کے انعقاد کی مخالفت کررہے ہیں۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر پر سینکڑوں لوگ اس کے انعقاد کی مخالفت میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔

چند ایک لوگ ایسے بھی ہیں جو علمائے دین کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ اس بدتہذیبی کے لئے علماء کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ علمائے دین کی عدم رہبری کے باعث نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کے لئے دیگر کو ذمہ دار قرار دینے کا عادی ہوچکا ہے۔ کہیں حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے تو کہیں علماء پر ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے۔

جہاں تک سنڈے فنڈے کا معاملہ ہے، اس پروگرام میں حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے شرکت کی جاسکتی ہے اور ایسے پروگرام منعقد کئے جاسکتے ہیں جو تہذیب کے دائرہ میں ہوں لیکن ان پروگراموں میں منچلے نوجوانوں کی جانب سے جو بے حیائی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس سے پروگرام کے انعقاد پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں اور کئی گوشوں سے اس پر اعتراض کیا جارہا ہے۔  

امیر ملت اسلامیہ مولانا حسام الدین ثانی عاقل عرف جعفر پاشاہ نے آج ہی اس مسئلہ پر اظہار خیال فرمایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں سنڈے فنڈے پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ چند لوگوں نے اس پروگرام میں ہوئی بداخلاقی، بے حیائی اور بدتمیزی کے لئے علماء کو ذمہ دار قرار دے دیا تھا۔ جعفر پاشاہ کا کہنا ہے کہ ہر بات کے لئے علماء کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ایک دن آئے گا جب علماء حق بات کہنا بند کردیں گے۔

جعفر پاشاہ نے ریاستی حکومت سے سنڈے فنڈے پروگرام بند کردینے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ پروگرام بند نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کا سنڈے فنڈے کردیں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.