کابل ایرپورٹ پر افراتفری میں لاپتہ افغان بچے کی تلاش جاری

اچانک اونچی باڑھ کے پیچھے سے ایک امریکی فوجی نے ان سے سوال کیا کہ آیا مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس اندیشہ سے کہ ان کا دو ماہ کابچہ سہیل اس گڑبڑ میں کہیں کچلا نہ جائے اسے فوجی کے حوالے کردیا۔

کابل: یہ ایک لمحہ کے ہزارویں حصہ میں کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ مرزا علی احمدی اور ان کی شریک حیات ثریا اور ان کے 5 بچے 19 اگست کو افغانستان میں کابل ایرپورٹ کی گیٹ کے باہر ایک ہجوم میں پھنس گئے تھے۔

اچانک اونچی باڑھ کے پیچھے سے ایک امریکی فوجی نے ان سے سوال کیا کہ آیا مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس اندیشہ سے کہ ان کا دو ماہ کابچہ سہیل اس گڑبڑ میں کہیں کچلا نہ جائے اسے فوجی کے حوالے کردیا۔

انہیں یہ توقع تھی کہ وہ بہت جلد باب الداخلہ تک پہنچ جائیں گے جو صرف 5 میٹر (16فٹ) کے فاصلہ پر تھا لیکن اسی لمحہ طالبان نے سینکڑوں افراد کو پیچھے ڈھکیلنا شروع کردیا جو وہاں سے تخلیہ کے متمنی تھے۔

اس خاندان کو ایرپورٹ کے باڑھ کے دوسری جانب پہنچنے دیڑھ گھنٹہ سے زیادہ کاوقت لگا۔ اندر پہنچنے کے بعد انہیں سہیل کہیں نہیں ملا۔

امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے اگست میں چند ہفتوں کے دوران حامد کرزئی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے زائد از ایک لاکھ 20ہزار افراد کا تخلیہ کرایا۔

مغربی ممالک کی حمایت یافتہ کابل حکومت زوال پذیر ہوچکی تھی اور طالبان نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیاتھا۔

مرزا علی جو 10 سال تک امریکی سفارتخانہ میں سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کرتے رہے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچے کے بارے میں ہر عہدیدار سے دریافت کیا۔

انہوں نے ہر فوجی کمانڈر نے انہیں بتایا کہ کسی بھی بچہ کے لیے ایرپورٹ بہت خطرناک جگہ ہے۔ شاید اسے (سہیل کو) بچوں کے لیے مخصوص علاقوں میں لے جایاگیا ہو لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو یہ علاقہ بھی خالی تھا۔

مرزا علی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ یہ عہدیدار میرے ساتھ پورا ایرپورٹ گھومتا رہا تاکہ بچے کو تلاش کیاجاسکے۔ انہیں اس عہدیدار کا نام معلوم نہیں ہوسکا کیونکہ انہیں انگریزی زبان نہیں آتی اور وہ سفارتخانہ کے اپنے افغان ساتھیوں کی مدد سے اس عہدیدار کے ساتھ بات چیت کررہے تھے۔ اسی طرح تین دن گذر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے شاید 20 سے زیادہ لوگوں سے بات چیت کی۔ہر عہدیدار سے چاہے وہ فوجی ہو یا سیویلین میں اپنے بچے کے بارے میں دریافت کررہاتھا۔

انہوں نے کہاکہ ایک سیویلین عہدیدار جس سے میں نے بات چیت کی بتایا کہ شاید سہیل کسی کے ساتھ چلاگیا ہو۔ یہاں ہمارے پاس بچے کو رکھنے وسائل نہیں ہیں۔

35 سالہ مرزا علی اور 32 سالہ ثریا اور ان کے دیگر بچوں 17 سالہ‘ 9 سالہ اور 3 سالہ بچے کو قطر جانے والی پرواز میں سوار کرادیاگیا۔ بعدازاں یہ پرواز جرمنی سے ہوتی ہوئی امریکہ پہنچ گئی۔

یہ خاندان اب ٹیکساس کے فورٹ ہلز میں دیگر افغان پناہ گزینوں کے ساتھ مقیم ہے۔ یہاں ا ن کے کوئی رشتہ دار نہیں ہیں۔ مرزا علی نے بتایا کہ انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے بچوں کو باڑھ کے اوپر سے فوجیوں کے حوالے کرتے ہوئے دیکھاتھا۔

انہوں نے ایک بچہ کا ویڈیو دیکھا تھا جسے باڑھ کے اوپر سے حوالے کیاجارہاتھا۔ بعدازاں اس بچے کو اپنے والدین سے ملادیاگیاتھا۔ مرزا علی نے بتایا کہ ان کی جس سے بھی ملاقات ہوتی ہے وہ سہیل کے بارے میں دریافت کرتے ہیں چاہے وہ امدادی کارکن ہو یا امریکی عہدیدار ہوں۔

سبھی یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن یہ محض وعدے ہوتے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ایک گروپ قائم کیاگیا اور سہیل کی تصویر کے ساتھ اس کے نیچے گمشدہ بچہ لکھاگیا۔

تمام نٹ ورکس پر اسے گشت کرایاجارہاہے اور امید ہے کہ کوئی نہ کوئی اسے پہچان لے گا۔ اس صورتحال سے واقفیت رکھنے والے ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ تخلیہ میں حصہ لینے والی تمام ایجنسیوں کو اس معاملہ واقف کرادیاگیاہے۔

امریکی اڈوں اور سمندر پار مقامات کو بھی ان سے واقف کرایاگیا ہے۔ اس بچہ کو آخری مرتبہ کابل ایرپورٹ پر افراتفری کے دوران امریکی فوجی کے حوالے کرتے دیکھاگیا لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی پتہ نہیں چلا سکا۔

ثریا نے ایک مترجم کی مدد سے بتایا کہ اس کا زیادہ تر وقت روتے ہوئے گذرتاہے اور اس کے دوسرے بچے مایوس ہیں۔ میں ہمیشہ اپنے بچے کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ مجھے فون کرنے والے سب لوگ‘ ماں‘ باپ‘ بہن مجھے تسلی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے بچے کو تلاش کرلیاجائے گا۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.