کالج اسٹوڈنٹ گرل اینڈ آٹو رکشا ڈرائیور، نلگنڈہ کی سبیتا

نلگنڈہ ضلع کے شالی گورارم منڈل کے ونگامرتی گاو ں سے تعلق رکھنے والی سبیتا،سرکاری کالج میں انٹرمیڈیٹ سال دوم کی تعلیم حاصل کررہی ہے۔یہ لڑکی بغیر کسی خوف کے ہائی وے پر لڑکوں کی طرح آٹو چلاتی ہے جس کو دیکھ کر تمام حیرت زدہ ہیں۔

حیدرآباد: کالج کو جانے کیلئے لڑکے اپنے والدین سے بائیک دلانے اور لڑکیاں اسکوٹی دلانے کی خواہش کرتی ہیں لیکن اس کے برخلاف آٹو دلانے کی ایک لڑکی نے ماں سے عجیب وغریب خواہش کی۔

ایک طرف اس نے آٹو چلاتے ہوئے اپنے گھر کی مالی مشکلات کو دورکرنے میں ماں کی مدد شروع کی تو وہیں دوسری طرف اس نے اپنا تعلیمی سفر بھی جاری رکھا۔

نلگنڈہ ضلع کے شالی گورارم منڈل کے ونگامرتی گاو ں سے تعلق رکھنے والی سبیتا،سرکاری کالج میں انٹرمیڈیٹ سال دوم کی تعلیم حاصل کررہی ہے۔یہ لڑکی بغیر کسی خوف کے ہائی وے پر لڑکوں کی طرح آٹو چلاتی ہے جس کو دیکھ کر تمام حیرت زدہ ہیں۔

وہ کالج کے وقت آٹو میں ہی اپنے کالج جاتی ہے۔کالج کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ آٹو چلاتے ہوئے گھر واپس ہوتی ہے اور راستہ میں آٹو میں سواریوں کو بھی بٹھاتے ہوئے کرایہ حاصل کرتی ہے۔اس کا تعلق غریب خاندان سے ہے۔

اس کا باپ نرسیا، مقامی ہوٹل میں کام کرتا تھا۔سال 2015میں اس کی موت ہوگئی جس کے بعد گھر کے معاشی حالات کافی خراب ہوگئے۔دسویں جماعت کے امتحان میں بہتر نشانات پر نکریکل ٹاون میں سرکاری کالج میں بی پی سی کورس میں اس نے داخلہ حاصل کیا۔

اس لڑکی کے گھرکے مسائل کو دیکھتے ہوئے ہوٹل کے مالک وینکٹیش نے اس خاندان کی مدد کی۔نرسیا، وینکٹیش کی ہوٹل میں ملازمت کرتا تھا۔وینکٹیش کی مدد سے اس نے آٹوڈرائیونگ کی تربیت حاصل کی اور سکنڈ ہینڈ آٹو کو خریدتے ہوئے اس کو چلانا شروع کردیا۔

اس نے ماں سے آٹودلانے کی جب بات کہی تو اس کے لئے بھی یہ بات انوکھی تھی۔ لڑکیوں کو بائیک چلاتے ہوئے دیکھنے کے منظرموجودہ دور میں معمول کی بات ہے لیکن لڑکی کا آٹوچلا نا غیرمعمولی بات ہے۔

سبیتاکا کہنا ہے کہ اس کے باپ کی موت کے بعد اس کی ماں نے ہوٹل میں کام کرتے ہوئے اس کی اور خود کی پیٹ کی آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔باپ کی موت کے باوجود اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔

یہ لڑکی آٹو میں سواریوں کو بٹھانے کے بعد اپنے کالج کو جاتی ہے۔ وہ اپنی کلاس میں پڑھنے والی اپنی سہیلیوں کو بھی اسی آٹو میں کالج کو لاتی ہے۔ اس لڑکی نے آٹو چلاتے ہوئے تمام کی توجہ اپنی جانب کرلی ہے۔ کالج سے گھر جانے کے بعد سبیتا اپنی ماں کا ہاتھ اس کے کام میں بٹاتی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے بارے میں سماج میں اب بھی یہ سونچ پائی جاتی ہے کہ لڑکیاں کیاکرسکتی ہیں تاہم ایسی سونچ رکھنے والوں کو وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ لڑکیاں بہت کچھ کرسکتی ہیں۔لڑکیوں میں نئے کام سے عزم پیداہوتا ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.