کتہ پیٹ فروٹ مارکٹ میں واقع مسجد کے وجود کو خطرہ

نمازیوں کو مسجد جانے میں رکاوٹ۔مارکٹ کی منتقلی کے بعد مسجدکو شہید کردئیے جانے کا خدشہ

حیدرآباد۔ : مسلمانان حیدرآباد کی غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں دو برس میں ہم دو مساجد کو کھوچکے ہیں اور حکومت کے تیقن کے باوجود ابھی تک ان مساجد کی تعمیر نو نہیں ہوسکی۔ اب ایک اور مسجد کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس مارکٹ میں ایک وسیع و عریض مسجد کے علاوہ ایک مندر بھی واقع ہے۔ جامع مسجد فروٹ مارکٹ کتہ پیٹ سے موسوم اس مسجد میں گزشتہ 16 برس سے باقاعدگی سے پنج وقتہ صلوٰۃ کے علاوہ صلوٰۃالجمعہ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

یہ مسجد 1,200 گز پر محیط ہے جہاں روزانہ ہر نماز میں 300-400 لوگ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ کتہ پیٹ فروٹ مارکٹ جو گڈی انارم مارکٹ سے بھی مشہور ہے، 22 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ شہر کی واحد باقاعدہ میوہ منڈی کتہ پیٹ فروٹ مارکٹ1986 ء میں قائم کی گئی۔

جام باغ میں واقع فروٹ مارکٹ کو یہاں منتقل کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے کتہ پیٹ فروٹ مارکٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب وہاں فروٹ کمیشن ایجنٹس کے داخلہ پریکم اکتوبر سے امتناع عائد کردیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے کوہیڈا میں فروٹ مارکٹ تمام سہولتوں کے ساتھ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تب تک اس مارکٹ کو باٹا سنگارم، حیات نگر منتقل کیا جانے والا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ فروٹ مارکٹ کو منتقل کرتے ہوئے اس جگہ پر ایک ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل تعمیر کیا جائے۔تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک رٹ اپیل پر فروٹ مارکٹ کی منتقلی پر عارضی حکم التواء جاری کیا ہے جس پر آئندہ سماعت 4 اکتوبر کو مقرر ہے۔

یاد رہے کہ ہائی کورٹ کے واحد رکنی جج نے 30 ستمبر کے بعد مارکٹ کو منتقل کرنے کی حکومت کو اجازت دے دی تھی جس کے خلاف یہ اپیل دائر کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ اگر مارکٹ کی منتقلی پر روک نہیں لگاتی ہے اور حکومت کو وہاں ہاسپٹل قائم کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہاں موجود مسجد کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

جامع مسجد فروٹ مارکٹ، کتہ پیٹ کی انتظامی کمیٹی کے صدر جناب سید عبیداللہ شاہ قادری نے کہا کہ مارکٹ کی منتقلی کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ وہاں ہسپتال قائم کیا جائے تو ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ مسجد کو باقی رکھا جائے اور وہاں ہاسپٹل تعمیر کیا جاتا ہے تو اس صورت میں مسجد کو اس ہسپتال کے احاطہ سے باہر رکھا جائے اور اس کے لئے 10-15 فیٹ کا راستہ چھوڑدیا جائے۔

انہوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ سے خواہش کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے نہ صرف مسجد میں عبادات کے سلسلہ کو جاری رکھنے کی اجازت دیں بلکہ اس کی حفاظت کے تمام تر انتظامات کئے جائیں۔ انہو ں نے شکایت کی کہ ابھی مارکٹ کی منتقلی کا عمل مکمل بھی نہیں ہوا ہے مگر پولیس، میوہ فروش تاجرین اور دوسروں کو مارکٹ کے احاطہ میں داخل ہونے سے روک رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے ہر وقت پولیس کے ساتھ بحث و تکرار کرنا پڑرہا ہے۔ہمیں اس جگہ پر ہاسپٹل کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ اس مسجد کی ہر صورت میں حفاظت ہو۔ اگر یہاں سے مارکٹ مکمل طور پر منتقل ہوجاتی ہے تو اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ پولیس مسجد کو جانے کے لئے کوئی راستہ ہی نہ رکھے اورکسی رات کی تاریکی میں انتظامیہ مسجد کو شہید ہی نہ کردے۔

انہوں نے مسلم عوامی نمائندوں سے بھی خواہش کی ہے کہ وہ اسمبلی میں اس مسئلہ کو اٹھائیں اور مسجد کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جناب سید عبید اللہ نے وقف بورڈ کے ارباب سے بھی خواہش کی کہ وہ بروقت حرکت میں آتے ہوئے مسجد کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کریں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.