کیا آغا خان ٹرسٹ، گنبدان قطب شاہی کی تزئین ومرمت کا مجاز ہے؟

جھلکیاں
  • محکمہ آثار قدیمہ، گنبدان قطب شاہی کا قبضہ منتقل کرنے کا مجاز نہیں
  • یادداشت مفاہمت سے قبضہ کی حوالگی ثابت نہیں
  • حکومت کی اجازت کے بغیر تاریخی عمارات سے چھیڑ چھاڑ
  • حکم التواء کے باوجود آج بھی تعمیراتی کام جاری
  • وقف بورڈ خاموش تماشائی

نمائندہ خصوصی

آغا خاں ٹرسٹ فار کلچر (اے کے ٹی سی) کی جانب سے گنبدانِ قطب شاہی کے تحفظ کے لیے اختیار کردہ باوقار پراجکٹ کے لیے قانونی رکاوٹیں ایک بڑا خطرہ ہیں، جس کے باعث ثقافتی ورثہ سے محبت رکھنے والوں میں برہمی پائی جاتی ہے۔

اے کے ٹی سی نے 2013ء میں ایک غیرتخمینی لاگت کے ساتھ تحفظ وبقاکے اس پراجکٹ کا آغاز کیا تھا۔ ہر کوئی خوش تھا کہ اے کے ٹی سی 130 ایکڑ اور 30 گنٹوں پر مشتمل ٹومبس کامپلکس کی حفاظت اورزمین کی آراستگی  و تحفظ کے لیے آگے آیا ہے۔ تلنگانہ وقف ٹریبونل نے کھدائی کے بشمول تمام قسم کے تعمیراتی کاموں پر عبوری حکم التوادے دیا ہے۔

اے کے ٹی سی اور سرکاری محکمے وقف ٹریبونل کے امتناعی حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے، لیکن وہ اپنے دلائل اور ریکارڈ سے ہائی کورٹ کوقائل نہیں کرواسکے اور عدالت نے حکومت اور مالک / متولی عزت مآب نظام حیدرآباد کے درمیان کیے گئے 1966ء کے معاہدہ کے شرائط کی خلاف ورزی پر مایوسی ظاہر کی اور یوں وہ حکم ِ التوا برخاست کرانے میں ناکام ہوگئے۔

حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ریاستی حکومت اور نہ ہی قانونی امور کے ذمہ دار حکام اور نہ ہی اے کے ٹی سی نے اس پراجکٹ پر آگے بڑھنے سے قبل اس بات پر غور کیا کہ یہ سارا رقبہ معلنہ وقف و آثارِ قدیمہ کی جگہ ہے، حتیٰ کہ وقف بورڈ کو بھی ریاستی حکومت نے اس پراجکٹ پر اعتراض اٹھانے کے لیے مطلع نہیں کیا اوراس نے بھی خاموشی اختیار کرلی، لیکن وقف و آثارِ قدیمہ کے تحفظ کی خاطر ٹومبس کامپلکس کے قریب رہنے والے نوجوانوں / مدعیان کے ایک گروپ نے قانونی چارہ جوئی شروع کی ہے۔

قطب شاہی ٹومبس کامپلکس اور دکن پارک پر مشتمل آثارِ قدیمہ کا یہ مقام نہایت اہم تاریخی عہد ِ وسطیٰ کے مقابر میں سے ایک ہے۔ اس کامپلکس کے اندر 79 اسٹرکچرس ہیں جو 45 مقبروں، 23 مساجد، پانچ سیڑھیوں والے کنوئیں، شیعہ اور سنی دونوں مسالک کے قبرستان، ایک غسل خانہ واقع  ہیں جس کی تعمیر سولہویں تا سترہویں صدی میں قطب شاہی سلطنت  کے عہد میں کی گئی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اے کے ٹی سی نے ایک خیراتی ادارہ کی حیثیت سے اختیار اور معلومات کے بغیر ہی خستہ حال گنبدوں کی تعمیراتی عظمت کو بحال کرنے کے مقصد سے ایک زبردست تخریبی کام کیا ہے، لیکن اس سے قبروں کا تقدس پامال ہوا ہے، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، جن کے آباء و اجداد یہاں مدفون ہیں۔

عوام الناس کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثہ سے محبت رکھنے والوں پر بہت سی باتوں کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔ اے کے ٹی سی نے قانونی دشواریوں کی وجہ سے اس پراجکٹ سے دستبرداری پر سوچنا شروع کیا، لیکن عوام الناس کو یہ بتایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے قانونی رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ ہم نے مدعیان کے وکیل محمد الیاس ایڈوکیٹ سے بات کی ہے، جنہوں نے جاریہ غیرقانونی تعمیراتی کام بشمول قانون کے مطابق گزٹ میں اعلامیہ کے بغیر کھدائی کے کام پر حکم التواء حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں مدلل بحث کی۔

انہوں نے استدلال کیا کہ ڈائرکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم، سکریٹری ڈپارٹمنٹ آف ٹورازم اینڈ کلچر کے ساتھ ساتھ آغا خان ٹرسٹ فار کلچر نے آثارِ قدیمہ کے ایک مقام کے اندر قطب شاہی دور کے ورثہ کی معلومات فراہم کرنے کے لیے وقف وآثارِ قدیمہ کے مقام میں انٹرپریٹیشن سنٹر(مرکز ترجمانی) اورایمفی تھیٹر(سماعت گاہ)  کی ترقی کے نام پر وزارتِ سیاحت کی جانب سے منظورہ فنڈس کا غلط استعمال کیا ہے۔

ان کے مطابق سال 2013ء اور 2018ء میں کھدائی و تعمیراتی کاموں وغیرہ پر دیئے گئے امتناعی احکام کے باوجود مذکورہ بالا حکام نے وقف آثارِ قدیمہ کے مقام کے اندر زائد از 30 فٹ تک کھدائی کی تھی اور (ہائی کورٹ کے فیصلہ کے باوجود) مجوزہ اسٹرکچر کے لیے کھدائی کا کام ہنوز جاری ہے۔

محمد الیاس نے کہا کہ جب ہم نے ٹریبونل کے علم میں یہ بات لائی تو ٹریبونل نے آثارِ قدیمہ کے مقام پر مٹی کی کھدائی و منتقلی، حمل و نقل کے لیے بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت پر مطلق حکم ِ التوا دیا تھا، نیز مزید یہ حکم بھی دیا کہ تمام فریقین کی سنجیدہ رضامندی کے بغیر وقف و آثارِ قدیمہ کے مقام کے اندر مرکز ترجمہ یا دیگر کوئی اسٹرکچرس تعمیر نہ کیے جائیں۔

 انہوں نے استدلال کیا کہ ٹریبونل کی جانب سے جاری کردہ حکم سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اے کے ٹی سی جس نے 103 ایکڑ کے رقبہ پر قطب شاہی ٹومب کامپلکس کے حدود میں مختلف کاموں کے لیے مذکورہ بالا محکموں کے ساتھ 9 جنوری 2013ء کو یادداشت ِ مفاہمت کو بھی کسی اجازت کی بغیر ہی طے کیا تھا، لہٰذا مذکورہ بالا یادداشت ِ مفاہمت میں ریاست یا مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت کا کوئی حوالہ نہیں ہے جو عدالت کو فراہم کیا جاسکے۔

مذکورہ بالا حقیقت کی تصدیق میں مذکورہ ٹریبونل کی جانب سے دیا گیا ایک حکم بھی موجود ہے کہ محکمہئ آثارِ قدیمہ نے رپورٹ دی تھی کہ اس نے یادداشت ِ مفاہمت مورخہ 9 جنوری 2013ء کے تحت اے کے ٹی سی کو قبضہ نہیں دیا تھا، لہٰذا اے کے ٹی سی کے ذریعہ ٹومبس کامپلکس کا مبینہ قبضہ غیرمجاز ہے اور ڈائرکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیمس، سکریٹری محکمہئ سیاحت کی معاونت کے ذریعہ ایک دخل اندازی ہے۔محمد الیاس کا کہنا ہے کہ غیرقانونی کام پر امتناعی حکم کی تصدیق کے باوجود مذکورہ بالا محکمہ اور اے کے ٹی سی کی جانب سے تا حال اسے انجام دیا جارہا ہے۔

 اس مسئلہ پر اے کے ٹی سی کے نمائندے کے بیانات پر ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام بیانات جھوٹے اور گمراہ کن ہیں۔ محکمہئ آثارِ قدیمہ اچھی طرح سے واقف ہے کہ وہ زائد از 50 سالوں سے واحدنگہبان ہے اور اسے 1966ء کے معاہدہ کے تحت بشمول اے کے ٹی سی کے ساتھ کی گئی یادداشت ِ مفاہمت کے تحت کسی تیسرے فریق کو دینے کا مجاز نہیں ہے۔ محمد الیاس نے کہا کہ اے کے ٹی سی نے مذکورہ بالا غیرقانونی یادداشت ِ مفاہمت کے تحت حقوق کا دعویٰ کیا ہے، جو قانون کے تحت قابل اطلاق  نہیں۔ حقوق سے محروم کرنے کا الزام بکواس ہے اور جھوٹے بیانات دیئے جارہے ہیں۔

پرلطف بات یہ ہے کہ انہوں نے غیرقانونی حرکت کا ارتکاب کیا ہے اور چاہتے ہیں کہ اس غیرقانونی حرکت کوجاری رہنے دیا جائے اور توقع رکھتے ہیں کہ کسی کو بھی اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا درخواست گزاروں کا یہ کہنا غلط ہے کہ یادداشت ِ مفاہمت غیرقانونی ہے، کیوں کہ یہ مالک کی رضامندی کے بغیر طے کی گئی ہے۔

کیا یہ نشاندہی کرنا غلط ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی گنبدوں سے اب 450 برسوں بعد بارش کا پانی رسنا شروع ہوگیا ہے۔ کیا کھدائی کی نشاندہی کرنا غلط ہے، جو اے کے ٹی سی کے ذریعہ 103 ایکڑ پر کی جارہی ہے، حالانکہ کھدائی کا کام ماہرین آثارِ قدیمہ کا ہوتا ہے نہ کہ اے کے ٹی سی کا، جو محض ایک خیراتی ادارہ ہے، جسے غیرقانونی یادداشت ِ مفاہمت کے تحت کوئی اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟

اس طرح کی بہت سی غلطیاں ہیں جن پرمدعیان عدالت سے کارروائی کرنے کی گذارش کا حق رکھتے ہیں کہ عدالت مناسب وقت میں سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کروائے۔ محمد الیاس ایڈوکیٹ  مزید کہتے ہیں  انہیں حیرت ہے کہ ریاست نے مدعیان کی جانب سے اٹھائے گئے تمام سوالات پر خاموشی اختیار کرلی، کیوں کہ وہ اے کے ٹی سی کا ساتھ دے رہی ہے اور وہ یکطرفہ تحریر کردہ غیرقانونی یادداشت ِ مفاہمت کی وجہ سے اس کی سرگرمیوں پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں رکھتی۔

 ہم ایک اور ثبوت یہ رکھتے ہیں کہ ریاستی حکومت نے ورلڈ ہیریٹیج لسٹ 2018ء میں، اندراج کے لیے گنبدانِ قطب شاہی کی تجویز پیش کرنے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں حصہ نہیں لیا، شائد اس لئے کہ ریاست اس آثارِ قدیمہ و اوقافی مقام پر جاری کاموں اور اس کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شمولیت کے معیار پر پورا نہ اترنے سے اچھی طرح واقف ہے۔ انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ اس کے بعد کی تبدیلیوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس پر کچھ کہنے کا کام حکومت کا ہے نہ کہ اس کے ایجنٹس کا۔ میرا ماننا ہے کہ اے کے ٹی سی کی جانب سے انجام دیا جانے والا کام ناقص معیار کا ہے۔ مثال کے طور پر عمارت کو دوبارہ اس شکل میں تعمیر نہیں کیا جاسکا جس شکل میں وہ پہلے موجود تھی۔ محکمہ عمارتوں کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے منہدمہ عمارتوں کی بحالی میں ناکام ہوگیا ہے۔

 اے کے ٹی سی نے عمارتوں کی اصلی شکل میں ترمیم و تبدیلی کی ہے، جو حکومت کی پیشگی منظوری / اجازت کے بغیر اور مذکورہ غیرقانونی یادداشت ِ مفاہمت کے تحت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اے کے ٹی سی نے درخواست گزاروں کی معلومات یا مہارت کو بے حد خراج پیش کیا ہے، جب کہ دوسری طرف اے کے ٹی سی ایک خیراتی ادارہ ہے، جو قدیم عمارتوں کے تحفظ و نگہداشت کے تعلق سے کوئی معلومات نہیں رکھتا، جس کی عکاسی مذکورہ بالا اقدامات سے ہوتی ہے اور وہ صرف دوسروں کی تعریف ہی کرسکتے ہیں۔

اگر معاون فنڈنگ ادارے مذکورہ بالا حقائق سے باخبر ہوجائیں تو ادھار و خیرات لینے کا باب بندہوجائے گا، جس سے غالباً  وہ پریشان ہیں، اسی لیے وہ صرف مدعیان کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے جھوٹے بیانات دے رہے ہیں۔ محمد الیاس ایڈوکیٹ  نے کہا، آخر میں ہم اے کے ٹی سی سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جھوٹے بیانات کے ذریعہ مدعیان پر الزام تراشی بند کردیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.