کیا ہندو سچ مچ خطرے میں ہے؟

گجرات کے ڈپٹی چیف منسٹر نتن پٹیل کا کہنا ہے کہ اگر ہندو اقلیت میں آگئے تو نہ تو ملک کی کوئی عدالت باقی رہے گی اور نہ ہی لوک سبھا‘دستور یا سیکولرازم۔

احمدآباد: گجرات کے ڈپٹی چیف منسٹر نتن پٹیل نے کہا ہے کہ دستور‘ قانون اور سیکولرازم کی باتیں اس وقت تک ہی ہوتی رہیں گی جب تک کہ ہندو اکثریت میں ہیں۔

ہندو اقلیت میں آگئے تو نہ تو ملک کی کوئی عدالت باقی رہے گی اور نہ ہی لوک سبھا‘دستور یا سیکولرازم۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ہندو جب تک اکثریت میں ہیں دستور‘ قانون‘ سیکولرازم کی باتیں کرنے والے یہ باتیں کرتے رہیں گے۔

خدا کرے ایسا نہ ہو لیکن ہزار دو ہزار سال میں ہندوؤں کی تعداد گھٹ گئی اور دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی آبادی بڑھ گئی تو کوئی عدالت‘ لوک سبھا‘ دستور اور سیکولرازم برقرار نہیں رہیں گے۔

یہ سب ہوا میں تحلیل ہوجائیں گے‘ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

گاندھی نگر کے ایک مندر میں بھارت ماتا کی مورتی لگانے کے موقع پر وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نتن پٹیل نے کہا کہ وہ تمام مسلمانوں یا عیسائیوں کی بات نہیں کررہے ہیں کیونکہ ان کی بڑی تعداد محب ِ وطن ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سب کی بات نہیں کررہا ہوں۔ ہزاروں لاکھوں مسلمان‘ عیسائی حب الوطن ہیں۔

ہزاروں مسلمان ہندوستانی فوج میں ہیں۔ سینکڑوں مسلمان گجرات پولیس میں ہیں۔ یہ سب محب وطن ہیں لیکن میں ان کی بات کررہا ہوں جو محب وطن نہیں ہیں۔

نتن پٹیل نے ایک مسلم تنظیم (جمعیت علمائے ہند) پر تنقید کی جس نے گجرات آزادی مذہب (ترمیمی) قانون2021 کو چیلنج کیا ہے۔ یہ قانون زورزبردستی سے بین مذہبی شادیوں کے ذریعہ دھرم پریورتن (تبدیلی مذہب) رکوانے کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کیوں پریشان ہے جبکہ یہ قانون کسی مذہب کے لئے مخصوص نہیں ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.