گائے کو قومی جانور قراردیا جائے:الہ آباد ہائی کورٹ

جسٹس شیکھر یادو نے اپنے سخت تبصرے میں مزید کہا کہ’ ہم جانتے ہیں کہ جب کسی ملک کے تہذیب و ثقافت اور اس کے عقیدہ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے‘۔

پریاگ راج: الہ آبادہائ کورٹ نے گئو کشی کے ایک معاملے میں داخل ضمانت کی عرضی پر سماعت کے دوران سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ تجویز دی کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کے تحفظ کو ہندؤں کا بنیادی حق قرار دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے جاوید نامی ایک ملزم کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کررہا تھا۔ جاوید پر گاؤ کشی کا الزام ہے۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے اپنے سخت تبصرے میں مزید کہا کہ’ ہم جانتے ہیں کہ جب کسی ملک کے تہذیب و ثقافت اور اس کے عقیدہ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ملک کمزور ہوجاتا ہے‘۔

جسٹس شیکھر یادو نے جاوید کی ضمانت کی عرض کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جاوید نے گائے کی چوری کے بعد اس کوذبح کیا ہے اورا س کا گوشت بھی اس کے پاس ملا ہے۔یہ ملزم کا پہلا گناہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی وہ ایسا عمل سرزد کر چکا ہے اور گائے ذبیحہ کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو زک پہنچا ہے۔کورٹ کا ماننا ہے کہ اگر ایسے افراد کو ضمانت دی گئی تو باہر جاکر وہ پھر ایسے ہی عمل کر ارتکاب کریں گے اور اس سے سماجی ماحول کو نقصان پہنچے گا۔

ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379 اور انسداد گئو کشی ایکٹ کی سیکشن 3،5،8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.