گنبدان قطب شاہی کے پراجکٹ سے دستبرداری پرآغاخان ٹرسٹ کاغور

ٹرسٹ، حیدرآباد میں گنبدان قطب شاہی کی تزئین و مرمت کے پراجکٹ پر تقریباً ایک دہے سے کام کررہا ہے اور اس خصوص میں کئے گئے یادداشت مفاہمت کی میعاد جنوری 2022 میں ختم ہوجائے گی۔

حیدرآباد: آغا خان ٹرسٹ فار کلچر نے گنبدان قطب شاہی کی عظمت رفتہ کی بحالی کے باوقار پراجکٹ سے دستبرداری اختیار کرنے کا ذہن بنالیا ہے۔

ٹرسٹ، حیدرآباد میں گنبدان قطب شاہی کی تزئین و مرمت کے پراجکٹ پر تقریباً ایک دہے سے کام کررہا ہے اور اس خصوص میں کئے گئے یادداشت مفاہمت کی میعاد جنوری 2022 میں ختم ہوجائے گی۔

پراجکٹ کے آغاز کے بعد سے ہی یہ پراجکٹ مختلف قانونی کشاکش سے دوچار رہا ہے۔ گنبدان قطب شاہی جو دراصل شاہی مقابر ہی ہیں اور یہ درج اوقاف بھی ہیں۔108 ایکڑ پر محیط اس کامپلیکس میں 72 یادگاریں ہیں جن میں 40 مقابر، 23 مساجد، 6 باؤلیوں کے علاوہ ایک میت کو غسل دینے کا حمام ہے۔

اس پراجکٹ کا بنیادی مقصدگنبدان قطب شاہی کی عظمت رفتہ کی بحالی کے ذریعہ اسے ایک عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے جس سے مقامی مسلم نوجوان برگشتہ ہیں۔

پراجکٹ کو چالنج کرتے ہوئے ایک ہی وکیل کی جانب سے ان نوجوانوں نے اب تک 42 مقدمات و ذیلی درخواستیں مختلف عدالتوں میں دائر کیں اور وقف ٹریبونل میں انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔

ٹریبونل کے عبوری حکم التواء کو چالنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپیل پر عدالت العالیہ نے التواء کو برخاست کرنے سے انکار کردیا۔ پراجکٹ کی تکمیل میں حائل قانونی رکاوٹوں سے عاجز آکر آغا خان ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے پراجکٹ سے دستبرداری اختیار کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا ہے۔

ٹرسٹ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں گنبدان قطب شاہی کی تزئین و بحالی کے چالنج بھرے کاموں کو انجام دینا ممکن نہیں ہے۔ یاد رہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ وقف ٹریبونل نے گذشتہ سال جنوری میں گنبدان قطب شاہی کی مرمت و تزئین کے کاموں پر حکم التواء جاری کردیا تھاجس کے نتیجہ میں قلی قطب شاہ ہیرٹیج پارک کے انٹرپریٹیشن سنٹر کے کام روک دینا پڑا تھا۔

ٹریبونل نے عبوری انجنکشن آرڈر میں دکن پارک اور ایکوا پارک میں انٹرپریٹیشن سنٹر کے نام پر کسی بھی قسم کی کھدوائی، مٹی کی منتقلی اور کسی قسم کے تعمیراتی کاموں کو روک دینے کا حکم دیا تھا۔ درخواست گذاروں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مرکزی گزٹ اعلامیہ 1992 کو بنیاد بناتے ہوئے تعمیراتی سرگرمیوں پر روک لگانے کی مانگ کی تھی۔

یہ اعلامیہ قدیم یادگاروں کی باہری دیوار سے 100 میٹر کے دائرہ میں تعمیرات پر امتناع عائد کرتا ہے۔گنبدان قلی قطب شاہ کامپلیکس محکمہ آثارقدیمہ و میوزیمس کے تحت ہے اور انٹرپریٹیشن سنٹر باہری دیوار کے 60 میٹر کے فاصلہ پر ہی واقع ہے۔

رامپا مندر کو یونیسف کی جانب سے ورلڈ ہیرٹیج سائٹ قرار دینے کے بعد یہ امیدیں کی جارہی تھیں کہ گنبدان قطب شاہی کو بھی بعد تزئین ورلڈ ہیرٹیج سائٹ کا اعزاز حاصل ہوگا مگر مختلف قانونی رکاوٹوں کے باعث اب ایسا لگتا ہے کہ یہ پراجکٹ ادھورا ہی رہ جائے گا۔

سال 2010 ء سے گنبدان قطب شاہی کو ورلڈ ہیرٹیج سائٹ کا درجہ دلانے کی سعی میں شدت پیدا ہوگئی تھی مگر ہنوز کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

آغا ٹرسٹ کے ذمہ داروں کو یہ شکایت ہے کہ اس پراجکٹ کو جاری رکھنے میں حائل قانونی دشواریوں کو دور کرنے میں اسے سرکاری اداروں خاص کر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ اور قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی سے مطلوبہ تعاون و حمایت حاصل نہیں ہورہی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.