گولکنڈہ کی فصیل کاحصہ ایک بارپھر منہدم

گولکنڈہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد ہے مگرمحکمہ کی کارکردگی پرہمیشہ سے ہی سوالیہ نشان لگا رہتاہے‘اب تازہ ترین طورپرقلعہ گولکنڈہ کی فصیل کاایک حصہ ایک مرتبہ پھرمہندم ہوگیا۔

حیدرآباد: دنیا کی ہرحکومت تاریخی عمارتوں کو ماضی کا عظیم ورثاء قرار دیتے ہوئے تحفظ کرتی ہے۔

ان اقدامات کامقصددنیا کوملک کی عظیم تہذیب وشفافت سے واقف کرانابھی ہوتا ہے‘مگرہندوستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔

یہاں حکومتوں کی جانب سے نہ صرف تاریخی عمارتوں کونظراندازکیا جاتاہے بلکہ تباہ وبربادہونے کے لئے چھوڑدیا جاتاہے۔اس کی تازہ ترین مثال جنوبی ہندکے مشہور ومعروف تاریخی قلعہ گولکنڈہ کی ہے۔

یوں تو  گولکنڈہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد ہے مگرمحکمہ کی کارکردگی پرہمیشہ سے ہی سوالیہ نشان لگا رہتاہے‘اب تازہ ترین طورپرقلعہ گولکنڈہ کی فصیل کاایک حصہ ایک مرتبہ پھرمہندم ہوگیا۔

اگرمحکمہ کی جانب سے قلعہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کو سنجیدگی اور بہتر اندازمیں اداکیاجاتا‘وقتاًفوفتاً مرمتی کام انجام دیئے جاتے توفصیل کے گرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتامگرذمہ داریوں سے لاپرواہ محکمہ نے اپنی نااہلی کوچھپانے کے لئے مسلسل بارش کوذمہ دار ٹہرانے کی کوشش کررہا ہے۔

 اگر تاریخی قلعہ گولکنڈہ کی دیکھ بھال کواسی طرح نظرانداز کیا جاتارہا تووہ دن دورنہیں جب قلعہ گولکنڈہ مکمل کھنڈرمیں تبدیل ہوجائے گا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.