ہجومی تشدد اور ملی لائحہ عمل

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سچر کمیٹی کے مشاہدات کا مطالعہ مسلمانوں سے زیادہ مسلم دشمن طاقتوں نے کیا۔ انہوں نے اس کمیٹی کے اخذکردہ نتائج کا مطالعہ اس لئے نہیں کیاکہ ان کے دل پسیج گئے تھے بلکہ اس لئے کیا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں ملک میں مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے اوریہ طئے کیا جائے کہ ان کا عرصۂ حیات تنگ کیسے کیا جائے اور مسلمانوں کو ملک میں دوسرے درجہ کا شہری کیسے بنایا جائے۔

جھلکیاں
  • ماضی میں جتنے اختلافات ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوتے تھے اس سے کہیں زیادہ اختلافات ہندوؤں کے مختلف ذاتوں کے بیچ ہوا کرتے تھے مگرگزشتہ دو تین دہائیوں سے ایک منظم منصوبہ کے تحت بھارتیوں کی ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کو کم کرتے ہوئے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا ۔
  • اگر ہم ہجومی تشدد کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھا گیا ہے کہ کمزور اور ناتواں اور زیادہ تر تنہا و نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے والا ہجوم اپنی انسانیت سوز حرکتوں کی ڈھٹائی سے فلم بندی بھی کرتا ہے اور سوشیل میڈیا پر بڑے ہی فخر سے اپ لوڈ بھی کرتا ہے ۔

اطہر معین

ملک کے مختلف حصوں میں خاص کر شمالی ہند میں ہندؤں کی جانب سے مسلمانوں پر بلا اشتعال حملے ایک معمول بن گئے ہیں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث اشرار کی سرکوبی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا تو درکنار حکومت، مذمت کرنے میں بھی بخالت سے کام لیتی ہے ۔

کئی ایسے واقعات میں ظلم کا شکار بننے والوں کے خلاف ہی قانونی شکنجہ کستے ہوئے انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حکمراں جماعت کے قائدین شخصی طور پر ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنے لگےہیں اور انہیں مکمل سیاسی پناہ اور قانونی امداد فراہم کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں دوسرے اشرار حوصلہ پارہے ہیں۔

یوں تو بھارت میں مذہبی اختلاف اور اپنے عقیدہ کی حقانیت کو ثابت کرنے اور دوسرے مذاہب کی خامیوں کو نمایاں کرنےکی کوششیں زمانہ قدیم سے ہوتی آرہی ہیں مگر ماضی میں یہ اختلافات آپسی رنجش کی حدتک نہیں تھا۔ مذہبی لوگ اپنے اپنے حلقۂ اثر میں اپنے عقیدہ کی حقانیت اور دوسروں کے عقائد کی کمزوریاں بیان کرتے تھے مگر رفتہ رفتہ مذہبی مبلغین کے بیانات میں شدت آتی گئی جس کے نتیجہ میں شہریوں میں ایک دوسرے کے خلاف مذہب کی اساس پر نفرتیں بڑھنے لگیں۔

یہ نفرتیں لاوا بن کر فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کرلیتے تھےمگر بہت جلد ہی دونوں برادریوں میں مفاہمت کی کوششیں دونوں طرف سے ہوتی تھیں اور کچھ دنوں بعد حالات معمول پر آجاتے تھے اور پھرسے ہندواور مسلم شیر و شکر کی طرح رہنے لگتے تھے۔یہ فرقہ ورانہ فسادات زیادہ تر شہری علاقوں تک ہی محدود رہتے تھے اور دیہی بھارت کا بڑا حصہ نئی صدی کے آغاز تک بھی بڑی حد تک ان سےمحفوظ ہی رہا۔

ماضی میں جتنے اختلافات ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوتے تھے اس سے کہیں زیادہ اختلافات ہندوؤں کے مختلف ذاتوں کے بیچ ہوا کرتے تھے مگرگزشتہ دو تین دہائیوں سے ایک منظم منصوبہ کے تحت بھارتیوں کی ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کو کم کرتے ہوئے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا اور دو بڑے گروپ ہند اور مسلمان بنادئیے گئے اور سکھ مذہب، بدھسٹ اور جین مت کے ماننے والوں کو بھی مشترک عقائد کے حامل قرار دیتے ہوئےہندؤں میں شمار کیا جانے لگا اور دلتوں اور دیگر برادریوں کو بھی جو خود کو کبھی ہندو کہلوانا گوارہ نہیں کرتے تھے، ہندو ہونے کا لیبل لگادیا گیاجبکہ عیسائیوں کو ایک الگ اکائی کے طور پر رکھا گیا۔

  • ملک میں نفرت کے جذبات ہندؤں اور مسلمانوں کے بیچ بھڑکائے گئےاور ذرائع ابلاغ خاص کر فلموں، ٹیلی ویژنس اور اب سوشیل میڈیا کے ذریعہ ذہنوں کو مکدر کیاجانے لگا ہے جس کے نتیجہ میں آج دیہی علاقوں میں بھی لوگ مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوکر رہ گئے اور قصبوں اور دیہاتوں میں مذہبی رواداری باقی نہیں رہی۔
  • مرکز اور کئی ریاستوں میں کانگریس پارٹی جب بر سر اقتدار تھی اسی وقت سے ذرائع ابلاغ خاص کر ٹیلی ویژن چیانلس اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس کو مذہبی منافرت کے لئے بڑے پیمانہ پر استعمال کیا جانے لگا اور کانگریس پارٹی کو اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے والی پارٹی کے طور پر پیش کیا جانے لگا جبکہ بی جے پی کو ہندؤں کے مذہبی مفادات کی چمپئن کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔

کانگریس پارٹی ان کوششوں کی سرکوبی کرنے کی بجائے اپنا پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کرنے لگی اور یہ باور کروانے کی کوشش کرتی رہی کہ بی جے پی جتنی ہندوتوا حامی ہے وہ بھی ہندوتوا کے کاز کو آگے بڑھانے میں اتنی ہی سنجیدہ ہے مگر جذباتی نعروں اور تشہیر پر بے دریغ پیسہ خرچ کرتے ہوئے بی جے پی، کانگریس پر غالب آگئی۔ کمیونسٹ پارٹیاں بھی کمزور پڑگئیں اور کئی علاقائی پارٹیوں نےبی جےپی سے مفاہمت میں ہی عافیت محسوس کی۔بی جے پی کے مرکز میں بر سراقتدار آنے کے ساتھ ہی منظم طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ۔

اس مرتبہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی بجائے انفرادی طور پر مسلمانوں پر مظالم کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا گیاچونکہ فرقہ ورانہ فسادات کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے آگے نہیں آرہے تھے۔اگر ہم ہجومی تشدد کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھا گیا ہے کہ کمزور اور ناتواں اور زیادہ تر تنہا و نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے والا ہجوم اپنی انسانیت سوز حرکتوں کی ڈھٹائی سے فلم بندی بھی کرتا ہے اور سوشیل میڈیا پر بڑے ہی فخر سے اپ لوڈ بھی کرتا ہے اس امید میں کہ اس کو پذیرائی حاصل ہوگی۔

 بہت سے نوجوان جو حکمراں بی جے پی جماعت میں شامل ہوتے ہوئے اپنے حقیر مفادات پانا چاہتے ہیں وہ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہوئے بی جےپی قیادت کی نظروں میں آنا چاہتے ہیں۔ وہ اس لئے ایسا کرنے لگے ہیں کہ حکمراں جماعت کو یہ پیغام پہنچ جائے کہ وہ جس علاقہ میں رہتے ہیں وہ وہاں کے بااثرلوگوں میں شامل ہیں اور ان کے پیچھے نوجوانوں کی ایک بڑی ٹولی ہے جو ان کے اشاروں پرکچھ بھی کرنے کے لئے تیار رہتی ہے جن کو عددی قوت کے مظاہرہ کے لئے انتخابات میں بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

فرقہ وارانہ منافرت اور تشددکے خلاف آواز اٹھانے والے حقوق انسانی کے اداروں اور جہدکاروں کی آواز کو نہ صرف دبادیا گیا ہے بلکہ ان کے خلاف بھی سرکاری طور پر ایسی ایسی کارروائیاں کی گئیں کہ وہ دوسروں کے خلاف ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز کیا اٹھاتے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی بیان کرنے سے قاصر ہوگئے ہیں اور نتیجہ میں چند ہی عرصہ میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی تمام آوازیں بند کردی گئیں۔

  • حقوق انسانی کے کاز میں سرگرم بین الاقوامی اداروں سے وابستہ بھارتیوں پر بھی قانون کے نام پر ایسی ایسی کارروائیاں کی گئیں کہ بے باک سمجھے جانے والے جہدکار بھی خود کو بے بس محسوس کرنے لگے ۔

پہلے ان کی آواز کو ذرائع ابلاغ میں جگہ دی جاتی تھی اور عاملہ ان سے خوف کھایا کرتا تھا۔جہاں کہیں انتظامیہ فرقہ پرست عناصر کا آلہ کار بن جاتا تو حقوق انسانی کے جہدکاروں کو عدلیہ کا سہارا مل جایا کرتا تھا مگراب یہ صورت حال ہوگئی ہے کہ عدالتوں میں ان کے مؤقف کو پیش کرنے کے لئے وکلابرادری بھی آگے آنے سے ڈر رہی ہے۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو مجبوراً بھارت میں اپنے دفتر کو بند کردینے کا اعلان کرنا پڑا۔

  • ذرائع ابلاغ میں ایسے واقعات کی رپورٹنگ ضرور ہوتی ہے مگر اس رجحان کو ختم کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی ہے۔معدودے چند صحافتی ادارے اورکچھ صحافی ہیں جو بلامبالغہ ایسے واقعات کے تدارک کے لئے کمربستہ ہیںمگر ان کا حلقۂ اثر بہت ہی محدود ہے۔

افسوس کہ ملک کے بڑے صحافتی ادارے ان واقعات پرکم از کم خاموشی اختیار نہیں کررہے ہیں بلکہ اشرار کی کسی نہ کسی اعتبار سے پشت پناہی کررہے ہیں اور ایسے واقعات پرخاص کر قومی سطح کے بکاؤ ٹیلی ویژنس مباحثہ کا اہتمام کرتے ہوئے شدت پسندوں کے نظریات کو عام کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔جن سے اس طرح کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

اغیار سے کیا شکایت ملک میں مسلمانوں کے دائرہ حیات کو تنگ کرنے کی متواتر کوششوں کے باوجود بھی ملت ابھی تک بیدار نہیں ہوئی ہے۔ آزادی ہند سے قبل ملی تنظیمیں خاص کر علمائے کرام کی زیر قیادت تنظیمیں نہ صرف ملک کے مسلمانوں کے تئیں فکرمند رہا کرتی تھیں بلکہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہتے ہوئے ملت کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرتی تھیں اور ان پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ کوششیں کیا کرتی تھیں۔

مسلمانوں کے مسائل ایوان اقتدار تک پہنچانے کی سعی کیا کرتی تھیں۔ ان تنظیموں کے ذمہ داروں کو کبھی یہ خوف نہیں ہوا کرتا تھا کہ اگر حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی اور بسا اوقات ایسا ہوا بھی ہے کہ اہم شخصیتوں کو نذر زنداں کردیا گیا۔ ہماری ملی تنظیموں کے فکر کے زاویےہی بدل کر رہ گئے ہیں ۔

  • آج صورت حال یہ ہے کہ ہمارے عمائدین اس بات کا خاص خیال رکھنے لگے ہیں کہ ان کی لب کشائی سے کسی کے ماتھے پر شکن نہ پڑنے پائے اور ان کے کسی اقدام سے کسی کے مفادات کو ٹھیس نہ پہنچنے پائے۔ بیشتر ملی تنظیمیں چندوں کی وصولی اور ان کی رفاہی کاموں میں تقسیم کی حدتک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔

ملی مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے شائد ہی کسی ملی تنظیم کے پاس مختلف شعبہ ہائے حیات میں مسلمانوںکی نمائندگی کا ڈیٹا موجود ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک آپ کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کس میدان میں مسلمانوں کا کیا مؤقف ہے آپ کو کیسے اندازہ ہوگا کہ کس میدان میں مسلمان بچھڑے ہوئے اورکس میدان میں وہ چھائے ہوئے ہیں۔ ہماری معدودے چند تنظیموں کے پاس ڈیٹا ہو بھی تو وہ بہت قلیل ہے ۔

ملت کی قیادت کا دم بھرنے والوں کو یہ معلوم بھی ہے کہ مسلمانوں کی حقیقی آبادی کتنی ہے، ملک کے کن کن علاقوں میں ان کی کثرت ہے اور کن علاقوں میں وہ انتہائی قلیل تعداد میں ہیں، خواندگی کی شرح کیا ہے، تعلیم کی کس سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کتنی ہے، سرکاری ملازمتوں میں ان کا تناسب کتنا ہے، روزگار اور بے روزگاری کے جدول میں ان کا کیا مقام ہے، فی کس آمدنی کیا ہے، یومیہ اخراجات کا تناسب کیا ہے؟ اگر یہ سب کچھ معلوم نہیں ہے تو ہم کس طرح ملت کی نمائندگی کا حق ادا کرسکتے ہیں؟

میں نے چند ملی قائدین کو (میں سیاسی قائدین کی بات ہی نہیں کررہا ہوں) اپنی تقاریر میں اکثر سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سنا ہوں مگر میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے بھی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے کچھ اقتباسات دیکھےہوں گے وہ بھی تب جب انہیں مسلمانان ہند کے تعلیمی و معاشی مسائل پر تقریر کے لئے مدعو کیا گیا ہو۔

 شائد ہی کوئی ہوگا جس نے سچرکمیٹی اور دیگر کمیٹیوں و کمیشنوں کی مکمل رپورٹس ملاحظہ کی ہو اور اس کا تجزیہ کیا ہو۔ جب تک آپ کے پاس اعداد و شمار اور مشاہدات نہیں ہوں گے آپ کسی بھی مسئلہ کا مؤثر حل پیش کرنے سے قاصر رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ہماری زبانوں پر شکایات رہتی ہیں یا پھر ہم الزام تراشی کرکے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے اپنا ملی فریضہ انجام دے دیا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سچر کمیٹی کے مشاہدات کا مطالعہ مسلمانوں سے زیادہ مسلم دشمن طاقتوں نے کیا۔ انہوں نے اس کمیٹی کے اخذکردہ نتائج کا مطالعہ اس لئے نہیں کیاکہ ان کے دل پسیج گئے تھے بلکہ اس لئے کیا کہ اس رپورٹ کی روشنی میںملک میں مسلمانوںکا جائزہ لیا جائے اوریہ طئے کیا جائے کہ ان کا عرصۂ حیات تنگ کیسے کیا جائے اور مسلمانوں کو ملک میں دوسرے درجہ کا شہری کیسے بنایا جائے۔

ان تنظیموں نے اندلس میں مسلمانوں کی پسپائی اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے پس پردہ محرکات بھی بخوبی مطالعہ کیا ہے اور ن کی روشنی میں بھارت کے مسلمانوں کے لئے منصوبہ بندی کی ہے۔ اغیار کی تنظیمیںآبادی کے ڈیٹا، مذہبی اعتبار سے آبادی کا معیار زندگی، خاندان کی ہیئت ، فی کس آمدنی اور روزگار کی تقسیم کے بارے میں نہ صرف بخوبی واقف ہیں بلکہ ان کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔

انہیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ ملک میںمسلمان کے یومیہ اخراجات سب سے کم ہیں ،ایک مسلم فرد اوسطاً یومیہ بمشکل 32.66 روپے ہی خرچ کرپاتا ہے۔کارپوریٹس میںمسلمان صرف 2.67فیصد ہی ڈائرکٹرس اور سینئر ایکزیکٹیو پوسٹس پر فائز ہیں۔ کارپوریٹ کمپنیوں میں سینئر مینجمنٹ سطح پر ان کی ملازمت کا تناسب صرف 4.6فیصد ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق مزدوری میں مسلمانوں کی شرح شہری علاقوں میں صرف 33.1فیصد اور دیہی علاقوں میں 32..6فیصد ہی ہے۔ انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ آزادی کےبعد بھارت میں مسلمانوں کا معیار زندگی بہت ہی گرگیا ہے اور مزید حالات ابتر کردئیے جائیں تو پھر ان کی حالت ماضی کے یہودیوں سے بھی بدتر ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں پر حملہ کی نوعیت بدل گئی ہے۔ فسادات جو اکثر شہری علاقوں میں ہوا کرتے تھے جس سے صرف شہر ی مسلمانوں کی معیشت متاثر ہوا کرتی تھی ان کی جگہ ہجومی تشدد نے لے لی ہے۔

 اب ہجومی تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کوشہری اور دیہی علاقوں میں وقفہ وقفہ سے نشانہ بنایا جانے لگا ہے تاکہ عام مسلمان اس قدر محتاج ہوجائیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لئے بھی ترسنے لگیں ۔ اس پروگرام کے ایک حصہ کے طور پر ہندؤں میں یہ باور کروایاجانے لگا ہے کہ انہیں مسلم تاجرین سے خواہ وہ خوانچہ فروش ہی کیوں نہ ہو کوئی مال نہیں خریدنا چاہئے۔ شائد وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس طرح مسلمانوں کومجبور کیا جائے تو وہ مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے یا پھر کم از کم اپنا مذہبی تشخص کھودیں گے۔

بھارت میں دنیا کے دیگر حصوں کی طرح تمام مذہبی اکائیوں کو یہی باور کروایا گیا کہ سب کے مشترکہ دشمن مسلمان ہیں۔ مذہبی پیشواؤں سے برملا طور پرکہہ دیا گیا ہے کہ اسلام میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی ایک غیر مرئی کشش ہے چونکہ اس کے اصول واضح اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اس لئے اپنی مذہبی ٹھیکہ داری کو برقرار رکھنا ہے تو سب یک زبان ہوکراسلام اور مسلمانوں کو انسانیت کے لئےخطرہ باور کروائیں۔

ملک کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے اس بات کو تسلیم کریں گے کہ جب سے بھارت نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس کے آگے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ملک ایک نئی سمت آگے بڑھنے لگا ہے۔ ملک کے شہری، عوامی مفادات پر مذہب کو فوقیت دینے لگے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو زک پہنچانے ذاتی خسارہ بھی برداشت کرنے لگے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے اور عام آدمی کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوجانے کے باوجود احتجاج سے گریز کیا جانے لگا ہےاور ہر کوئی اپنے آپ کو تسلی دینے لگا ہے کہ مسلمانوں کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ملک میں جو حالات پیش آرہے ہیں ہم مسلمانوں نےاس کا ابھی تک سنجیدہ نوٹ ہی نہیں لیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی لائحہ عمل ہی نہیں ہے کہ ان نامساعد حالات میں ملک کے مسلمانوں کی رہنمائی کیسے کی جائے اور انہیں کیا منصوبہ دیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حالات کا رونا رونے کی بجائے مومنانہ فراست و فہم کا مظاہرہ کریں اور بھارتی مسلمانوں کو اسلامی تشخص کے ساتھ اس ملک میں بقاء کا ایک بلیو پرنٹ تیار کریں۔

ہجومی تشدد کے اب تک جو بھی واقعات پیش آئے ہیں اس پر ہم نے صرف شکایت ہی کی ہے۔ نہ ہی ہم نے قانون کادروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی سماجی، معاشی و سیاسی سطح پر کوئی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ اگر کچھ کیا ہے تو ہم نے تعلیم پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اگر مسلمان اعلیٰ تعلیم یافتہ بن جائیں تو ان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے مگر یہ ہماری یہ سوچ ناقص اور مادہ پرستی کا مظہر ہےچونکہ ہمیں یہ ادراک ہی نہیں ہے کہ آج غریب مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو کل متمول مسلمان بھی نشانہ بنائے جائیں گے۔

  • ہماری بے حسی اور اجتماعی منصوبہ بندی کے فقدان کا ہی نتیجہ ہے کہ عام اور غریب مسلمان اپنی بقاء کو یقینی بنانے دنیاوی اعتبار سے فیصلے کرنے لگا ہے۔ اگر سارے بھارت میں نہ سہی مگر شمالی ہند اور شمال مشرقی ہند کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسی میں عافیت محسوس کی ہے کہ ہندؤں کے عتاب سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم اپنا مذہبی تشخص کھودیں۔
  • اب وہاں کے مسلمان داڑھی منڈوانے لگے ہیں، مسلم عورتیں حجاب سے خود کو آزاد کرنے لگی ہیں حتیٰ کہ ٹرینوں اور بسوں میں سفر کے دوران اگر گھر سے کال آجائے تو اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کال ریسیو کرتے ہوئے بے ساختہ سلام نہ نکل جائے اور کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے ساتھی مسافرین کو ان کے مسلمان ہونے کا یقین ہوجائے۔

ہمیں اس بات کا افسوس تو ہے کہ متھورا میں ایک دوسہ فروش کی دکان کو اس لئے تہس نہس کیا گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ ہم نے یہ غور ہی نہیں کیا کہ اس مسلم دوسہ فروش نے اپنی دکان کا نام ’’شری ناتھ دوسہ‘‘ رکھا تھا اور جب ہندوتوا گروپس نے اس کی دکان پر حملہ کیا تو اس نے اپنی دکان کا نام بدل کر ’’امریکن دوسہ کارنر‘‘ رکھ لیا۔ یہ مسلمانوں کے خود کو دوسرے درجہ کا شہری تسلیم کرلینے کی ہی علامت ہے کہ ہم اپنی دکانات کے نام ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر رکھیں یا پھر ایسے نام رکھیں جس سے پتہ نہ چلے کہ یہ مسلمان کی دکان ہے۔

کاش کہ یہ دکان فروش اپنی دکان کا نام بدل کرکوئی اسلامی نام رکھ لیتا اور کوئی مسلم تاجر یا تنظیم یہ اعلان کردیتی کہ اندور کے اس چوڑی فروش کو جسے محض اس لئے پیٹا گیا کہ وہ مسلمان ہوکر ہندؤ محلہ میں کارباور کررہا ہے، ہم شہر کے مرکزی مقام پر ایک عالیشان چوڑی کی دکان کھول کر دیں گے تو اس کا پیغام کچھ اور ہی جاتا اور اثر کچھ اور ہی ہوتا۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

athermoin1@gmail.com

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

ایک تبصرہ

تبصرہ کریں

Back to top button
%d bloggers like this:

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.