’’ہندوؤں کے سامنے نماز‘‘، وقار یونس نے متنازعہ ریمارکس کے بعد معافی مانگ لی

وقار یونس نے سوشل میڈیا پر معافی نامہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نےبے خیالی میں ایسی بات کہہ دی جس سے بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

دبئی: پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وقار یونس نے چہارشنبہ  24 اکتوبر کو آئی سی سی T20 ورلڈ کپ ‘سوپر 12’ کے میچ میں بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کے بھارت  کو 10 وکٹوں سے شکست دینے کے بعد کیے گئے متنازعہ بیان پر "ہاتھ جوڑ کر” معافی مانگی۔

وقار یونس، جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ بھی رہے ہیں اور جنہوں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے ایک ماہ قبل ہی مستعفی ہوئے تھے، ان کے اس متنازعہ بیان پر بھارت کے سابق کرکٹرز اور مبصرین نے تنقید کی تھی جس میں وقار نے کہا تھا کہ پاکستانی اوپنر محمد رضوان کا میاچ کے دوران میدان پر‘‘ہندوؤں کے سامنے نماز ادا کرنا  ’’ان کے لئے بہت خاص بات ہے۔

وقار یونس نے سوشل میڈیا پر معافی نامہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت جذبات کی رو میں میں نے کچھ ایسا کہہ جو میری مراد نہیں تھی ، اس سے بہت سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں، یہ ہرگز مقصود نہیں تھا، یقیناً مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ کھیل نسل، رنگ یا مذہب سے بالاتر  ہوکر لوگوں کو متحد کرتا ہے’’۔ (جوڑے ہوئے ہاتھوں کی علامت کے ساتھ)۔

بھارتی کرکٹ سے وابستہ سابق کھلاڑی وینکٹیش پرساد، آکاش چوپڑا اور معروف کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے یونس کے ایک ٹی وی پروگرام میں متنازعہ ریمارکس کرنے کے بعد ان پر تنقید کی تھی۔

آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں بھارت کے خلاف پاکستان کی تاریخی جیت میں مرکزی کردار کے طور پر ابھرنے والے رضوان نے دبئی میں ڈرنکس بریک دوران ‘نماز’ ادا کی تھی۔ اتوار کو رضوان کی ‘نماز’ ادا کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

ایک پاکستانی نیوز چینل پر سابق پاکستانی بولر شعیب اختر اور ایک پاکستانی صحافی کے ساتھ گفتگو کے دوران وقار یونس  نے کہا تھا کہ میچ کے دوران رضوان کا نماز پڑھنا ان کے لیے ایک خاص لمحہ تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ سب سے اچھی بات جو رضوان نے کی کہ  اس نے زمین پر کھڑے ہوکر ہندوؤں کے بیچ میں نماز پڑھی… اور یہ واقعی میرے لیے بہت خاص بات تھی۔ (جو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا وہ وہی ہے جو رضوان نے کیا تھا۔ اس نے گراؤنڈ کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر ہندوؤں کے سامنے نماز پڑھی)  

وقار کا یہ تبصرہ شائقین کو اچھا نہیں لگا اور کئی سابق ہندوستانی کرکٹرز نے بھی ناراض کا اظہار کیا۔

وقار کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، سابق بھارتی فاسٹ بولر وینکٹیش پرساد نے وقار کو بے شرم آدمی قرار دیا۔ پرساد نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’’وقار۔ کسی کھیل کے دوران ایسے خیالات کا اظہار کرنا ایک مختلف جہادی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ کتنا بے شرم آدمی ہے،‘‘۔

بھارتی  کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے بھی ٹویٹر پر جاکر سابق کرکٹر کے بیان کو حال ہی میں سننے والی سب سے مایوس کن چیزوں میں سے ایک قرار دیا۔

"وقار یونس جیسے قد آور  شخص کا  یہ کہنا کہ رضوان کو ہندوؤں کے سامنے نماز پڑھتا دیکھنا ان کے لیے بہت خاص تھا، بہت ہی مایوس کن بات ہے۔ ہم میں سے بہت سارے ایسی باتوں کو بڑھاوا نہیں دیتے لیکن ان سے ایسی بات سننا  بہت ہی ناگوار گزرا ہے”۔بھوگلے نے ٹویٹر پر یونس کے متنازعہ بیان کے بارے میں ایک لمبا تھریڈ شیئر کیا۔

“اگر آپ سوچیں تو کھلاڑی ، ہمارے کھیل کے سفیر کے طور پر، کچھ زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وقار جلد ہی معافی مانگ لیں گے۔ ہمیں کرکٹ کی دنیا کو متحد کرنے کی ضرورت ہے، مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی نہیں۔’’

"میں واقعی امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں کھیلوں سے محبت کرنے والے بہت سے لوگ اس بیان کے خطرناک پہلو کو دیکھ کر میری طرح مایوسی کا اظہار کریں گے۔ ہم جیسے کھیلوں کے شائقین کے لیے یہ بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ یہ صرف کھیل ہے، صرف ایک کرکٹ میچ”، انہوں نے مزید کہا۔

وقار کے تبصرے کا نوٹس لیتے ہوئے، کرکٹر سے کمنٹیٹر بنے آکاش چوپڑا نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔

بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 24 اکتوبر کو دبئی میں ہونے والے ICC مینز T20 ورلڈ کپ 2021 کے میچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم  کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس میچ سے پہلے پاکستان نے کسی بھی فارمیٹ میں بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کا کوئی میچ نہیں جیتا تھا۔

ذریعہ
IANS

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.