ہندو مذہبی رہنماؤں کی دھمکی: رامائن اکسپریس کے اسٹاف کا یونیفارم تبدیل

مدھیہ پردیش اوجین سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس طرح کا یونیفارم ہندو مذہب کی توہین ہے، اس لیے اس یونیفارم کو لازمی طور پر تبدیل کردیا جانا چاہیے۔

نئی دہلی: انڈین ریلوے کے حکام نے رامائن اکسپریس اسٹاف ڈریس کوڈ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ ہندو مذہبی رہنماؤں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ٹرین میں خدمات کے دوران زعفران یونیفارم پہننے کا سلسلہ برقرار رکھا جائے تو دہلی کے صفدر جنگ ریلوے اسٹیشن پر رامائن اکسپریس کو روک دیا جائے گا۔

مدھیہ پردیش اوجین سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس طرح کا یونیفارم ہندو مذہب کی توہین ہے، اس لیے اس یونیفارم کو لازمی طور پر تبدیل کردیا جانا چاہیے۔

اس طرح کی دھمکی دیئے جانے کے بعد انڈین ریلویز نے پیر کو مذکورہ یونیفارم کے استعمال سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی نے بتائی۔

ہندوؤں کے رہنماؤں اور رشیوں نے کہا ہے کہ ٹرین میں اس طرح کا یونیفارم استعمال کیا جانا کسی صورت مناسب نہیں ہے اور یہ ہندو مذہب کی توہین ہے، جس کے بعد ریلوے کے حکام نے مختلف امور کا جائزہ لینے کے بعد زعفران یونیفارم کے استعمال سے دستبرداری اختیار کرلی۔

انڈین ریلوے نے آج یہاں خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا کہ مذکورہ یونیفارم پہننے سے ہندوؤں کے جو جذبات مجروح ہوئے ہیں اس پر انہیں افسوس ہے اور اب ریلوے اسٹاف نارمل شرٹس اور ٹراؤزرس پہنے گا۔ سابق جنرل سکریٹری اودیش پوری جو کہ اجین اکھاڈا پریشد سے وابستہ تھے.

خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہندوؤں کے مذہبی رہنماؤں نے وزیر ریلوے کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اسٹاف کے زعفران یونیفارم استعمال کرنے پر برہمی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے دو دن قبل وزیر ریلوے کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنی برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سابق جنرل سکریٹری نے مزید بتایا ہے کہ رامائن اکسپریس میں غذائی اشیاء اور ریفریشمنٹ سربراہ کرنے والے افراد زعفرانی رنگ کا لباس پہنے ہوئے ہوں، جیسا کہ سادھو پہنتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے اور یہ ہندو مذہب اور شی منیوں کی توہین ہے۔

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مطالبہ کی تکمیل نہ کی جائے تو ہم ریلوے ٹریکس پر بیٹھ جائیں گے۔ ہندو مذہب کے تحفظ اور احترام کو ترجیح دیتے ہوئے ہم اس طرح کا احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.